خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 289
خطبات طاہر جلد ۱۰ صلى الله 289 خطبه جمعه ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء نے ان الفاظ میں فرمایا کہ الدنيا سجن المومن وجنة الكافر (مسلم كتاب الزهد حديث نمبر: ۵۲۵۶) دنیا تو مومن کے لئے ایک قید خانہ ہے، مصیبت خانہ ہے جس میں وہ پڑ جاتا ہے۔کسی چیز کی آزادی نہیں رہتی ، یہ نہیں کرنا وہ نہیں کرنا۔سونے لگتا ہے تو پابندیوں کے ساتھ سوتا ہے ، اٹھتا ہے تو پابندیوں میں آنکھیں کھولتا ہے جو قدم اٹھاتا ہے یہ سوچتا ہے کہ یہ خدا کی ناراضگی کا قدم تو نہیں اور کونسا قدم اٹھاؤں کہ خدا کی پابندی کی زنجیروں میں جکڑا رہتے ہوئے دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ ان ہی راہوں پر قدم اٹھاؤں جن راہوں پر جانے کی یہ زنجیریں مجھے اجازت دیتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے تو قصے کومختصر فرما دیا اور کہا کہ ہاں! اب دعا مانگو کہ اے خدا! ہمیں عمر بھر کا قیدی بنادے ایسا قیدی بنادے جس کی گویا ساری آزادیاں چھین لی گئیں۔پس یہ دعا ہے جو آپ مانگ رہے ہیں اور پانچ وقت بھولے پن سے اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگتے ہیں اور پھر خدا کے جو اور بھی زیادہ سادہ لوح اس سے محبت کرنے والے، پیار کرنے والے بندے ہیں وہ نفلوں کے اضافے کرتے ہیں۔راتوں کو اٹھتے ہیں دنوں کی دعا سے مطمئن نہیں ہوتے کہتے ہیں ابھی ہم نے پوری مصیبتیں نہیں مانگیں۔اے خدا! اب باقی وقت ہم پر مزید مصیبتیں مانگتے ہیں۔جو کچھ رہ گیا ہے وہ ہم پر نازل فرما۔یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ فرما جو قرآن کے بیان کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لانا کافی ہے اور اس کے بعد کوئی ابتلاء نہیں آئیں گے۔ہمیں ان لوگوں میں داخل فرما جو ایمان لائے یہ جانتے ہوئے کہ یہ ابتلاؤں کا رستہ ہے اور یہ دعا کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ اے خدا! اب وہ ابتلا ہم پر ڈال لیکن یہ رحم فرما کہ ان ابتلاؤں میں ثابت قدم فرما۔ان ابتلاؤں سے زندہ سلامت گزار دے اور پھر ہم تیرے فضلوں کا وارث بنتے ہوئے ان ابتلاؤں کے دور سے نکلر پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دیکھیں کتنی ضرورت تھی۔شروع میں ہی خدا سے یہ التجا کرنے کی ضرورت تھی کہ عبادت تو تیری ہی کرتے ہیں اور کسی اور کی نہیں کرتے تیری کرنا چاہتے ہیں کسی اور کی نہیں کرنا چاہتے مگر اے خدا! بہت مشکل رستہ ہے تیری مدد کے بغیر ہم وہ دعا بھی نہیں کر سکتے جو دعا تو ہمیں سکھا رہا ہے اور ابھی آنے والی ہے۔پس اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا یہ پہلو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس کا مطلب یہ بنے گا کہ اے خدا!