خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد ۱۰ 25 25 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء کا نام ہے Deniability تو جو Terrorism یہ مسلمان ملکوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ Terrorism اسرائیل تو الگ رہا خود امریکہ نے کیا ہوا ہے اور کر رہا ہے۔آج بھی C۔I۔A اسی طرح مصروف عمل ہے کہیں فوجی انقلابات برپا کئے جارہے ہیں۔کہیں ویٹنام اور کوریا میں یا لاؤس میں یا گوئٹے مالا میں یا ایران میں جو ان کی کارروائیاں ہوئی ہیں آپ اس کتاب میں پڑھ کر دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔وہ کتاب کسی مخالف کی نہیں بلکہ خود ایک امریکن مصنف کی ہے جس نے اور بھی اچھی کتابیں اس موضوع پر لکھی ہیں اور مستند کتا بیں ہیں تو اب بتائیے وہ اصول کہاں گئے۔فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان ممالک بد قسمتی سے سادگی سے کام لیتے ہیں اور سادگی بھی اتنی جو بے وقوفی کی حد تک سادگی ہے۔ڈپلومیسی کی زبان نہیں جانتے۔بجائے اس کے کہ وہ بھی کہیں کہ ہم Covert Operations کر رہے ہیں یعنی مخفی آپریشن کر رہے ہیں کھل کر کہتے ہیں ہم تم سے انتقام لیں گے اے رشدی ! ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔اے فلاں ! اسلام اجازت نہیں دیتا کہ تم سے حسن سلوک کیا جائے۔جس طرح چاہیں ہم تمہیں برباد کریں گے۔ہاتھ میں کچھ ہوتا نہیں ہتھیار ان لوگوں سے مانگتے ہیں، بناء اپنی ان قوموں پر ہے جن کے خلاف یہ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور اسی بنا کو اکھیڑ نے کی دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں جس پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اسی بنیاد کو اکھیڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں جس پر انہوں نے اپنی عمارتیں تعمیر کی ہوئی ہیں محض بے وقوفی ہے ، اور صرف بے وقوفی نہیں بلکہ ظلم یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں اسلام کی طرف منسوب کر کے کرتے ہیں اور اسلام سے سچی محبت کرنے والوں سے ساری دنیا میں مصیبتیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ایک طرف یہ قومیں مظالم کرتی چلی جاتی ہیں، دنیا کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں جہاں چاہیں اپنی حکومت چلا ئیں۔جس ملک کے باشندوں کو جہاں چاہیں ملیا میٹ کر دیں نیست و نابود کردیں، صفحہ ہستی سے مٹا ڈالیں لیکن زبان ایسی ہونی چاہئے ، اصطلاحیں ایسی ہونی چاہئیں جن کے پردے میں ہر قسم کی کارروائی کی اجازت ہے اور وہ جن کو کچھ کرنے کی طاقت ہی نہیں ہے وہ نہایت احمقانہ زبان استعمال کر کے خود اپنا منہ بھی کالا کرتے ہیں اور اسلام کے اوپر بھی داغ ڈالتے ہیں۔تو ایک میرا پیغام تو عالم اسلام کو یہ ہے کہ ہوش کرو عقل سے کام لو جن قوموں سے لڑنا ہے ان سے لڑنے کے انداز ہی سیکھ لو وہ زبان ہی اختیار کر لو جو زبان تمہارے متعلق یا دوسری قوموں کے خلاف وہ استعمال کرتے ہیں۔بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔