خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 280

خطبات طاہر جلد ۱۰ 280 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء کے اوپر اٹھنا ہے اور نفل پڑھنے ہیں تو وہ عادت بعض دفعہ ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو جاتی ہے اور انسانی فطرت کا حصہ بن جاتی ہے، میں نے جو تہجد پڑھنے والے اکثر لوگ دیکھے ہیں وہ وہی جن کو بچپن میں عادت پڑی ہے یا جن کے گھروں میں بعض بزرگ تہجد پڑھا کرتے تھے اور بچپن میں انہوں نے دیکھا۔ دل پر اس کی عظمت بیٹھ گئی۔ خواہ وقتی طور پر وہ نہ بھی پڑھ سکے ہوں بعد میں ان کو عادت پڑ گئی مگر جو گھر ذکر سے خالی ہوں وہ یکیتَنِی والی بات ہے کہ کاش ان کی دوستی ہمیں نصیب نہ ہوتی جہاں تہجد تو در کنار نمازوں کا بھی اہتمام نہ ہو وہ زندگی سے خالی گھر ہیں وہاں جو بچے پلتے ہیں ان کی حالت سخت قابل رحم ہے لیکن بہت سے ایسے گھر ہیں جو رمضان کے مہینے میں جاگ اٹھتے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں ان میں زندگی کی چہل پہل دکھائی دیتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان گھروں کو خود بھی عبادت پر ہمیشہ قائم رہنے کے عزم کرنے چاہئیں اور رمضان مبارک میں بچوں کو عبادت کی عادت ڈالنی چاہئے ۔ بعض دفعہ جو عادت بچے اختیار کرتے ہیں اس پر وہ قائم رہتے ہیں اور بڑے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ پھر بچے ان کو یاد کراتے ہیں اور کہتے ہیں : بھئی ! آپ تو ہمیں کل کہہ رہے تھے کہ نماز پڑھا کرو اور تہجد پڑھا کرو۔ آپ تو اب مزے سے رات کو دیر تک باتیں کرتے ہیں اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں تو یہ کیا بات ہوئی ؟ بچہ بعض دفعہ بے تکلفی سے اپنے ماں باپ کو ایسی باتیں سنا دیتا ہے کہ اگر کوئی باہر سے سنائے تو اس سے لڑائی ہو جائے ۔ تو یہ دن ہیں ان سے زیادہ استفادہ کریں۔ اللہ ہم سب کو ذکر کی توفیق عطا فرمائے اور سب سے زیادہ لذت ہمیں عبادت کے ذریعے خدا سے تعلق میں پیدا ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کوئی اور لذت ایسی نہیں جیسی خدا کی محبت میں ملتی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین