خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۱۰ 260 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء رمضان میں خصوصیت کے ساتھ اپنے لئے یہ دعائیں کریں اور بنی نوع انسان کے لئے بھی یہ دعائیں کریں کہ وہ دعوے تو بہت کرتے ہیں اللہ ان کو بھی کوئی شعور عطا کرے۔میں نے گلف سے متعلق جو پچھلے خطبات تھے ان میں بڑے درد کے ساتھ بعض آنے والے خطرات کی نشاندہی کی تھی ان میں ایک یہ تھا کہ مشرق وسطی سے امن ہمیشہ کے لئے اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور جن خطرات کا اظہار کیا تھا وہ ابھی جیسے کہتے ہیں ناں کہ سیاہی ابھی گیلی ہی ہو سوکھی بھی نہ ہو تو بات ظاہر ہونے لگ جائے ویسی ہی کیفیت ہوئی ہے۔شام کے اوپر اسرائیل نے جنگ ختم ہوتے ہی یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ اب عراق سے خطرہ تو نہیں رہا مگر ہمیں شام سے خطرہ شروع ہو گیا ہے اور وہی باتیں جو پہلے عراق کے متعلق کہی جاتی تھیں اب شام کے متعلق کہی جانے لگیں۔پھر وہ خطرے جو میں نے پیش کئے تھے۔یہ تو نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک میں نے کوئی غیب کی خبریں بنائی تھیں مگر ہر انسان حالات کا جائزہ لے کر اندازے لگاتا ہے پس میں نے بھی جہاں تک ان قوموں کے مزاج کو سمجھا کچھ اندازے لگائے اور میرا اندازہ یہ تھا کہ عراق کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔اور بعض دوسری قوموں سے اندر کھاتے مخفی طور پر ہو سکتا ہے سمجھوتے ہو گئے ہیں کہ تم فلاں حصے پر قبضہ کر لینا تم فلاں حصے پر قبضہ کر لینا۔پس عراق میں جو بغاوت ہورہی ہے ، یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا دوسری قوموں سے کوئی تعلق نہیں مگر جو لوگ بھی اس صدی کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جہاں جہاں بغاوتیں ہوئی ہیں وہاں ضرور دوسری قوموں کا تعلق ہوتا ہے۔آج کے زمانے میں طاقتور منتظم فوجوں سے لڑنے کی عوام الناس میں طاقت ہی نہیں ہے جب تک باہر سے امداد نہ ہو۔جب تک باہر سے شہ نہ ملے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی ملک میں واقعہ منظم بغاوت ہو جائے چنانچہ افغانستان میں جو کچھ ہوا آپ جانتے ہیں۔اگر امریکہ مجاہدین کی مدد سے اپنے ہاتھ کھینچ لیتا تو وہاں جو کچھ آپ نے دیکھا ہے ہو ہی نہیں سکتا تھا ممکن ہی نہیں تھا۔اگر ویٹنام میں روس و بینا میوں کی امداد سے ہاتھ پھینچ لیتا تو امریکہ کو جو بالآخر عبرتناک شکست ہوئی وہ ممکن نہیں تھی۔غالبا ساڑھے آٹھ سال کا عرصہ ہے جو انہوں نے وہاں بہت ہی درد ناک جنگ کی حالت میں گزارا ہے۔وہ جنگ چند مہینوں کے اندر ختم ہو سکتی تھی اگر امریکہ کے مقابل پر روس انکامددگار نہ ہورہا ہوتا تو اس لئے بیرونی خطرات پہلے بھی تھے آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے لیکن پہلے دوسمتوں سے ہوتے تھے اب ایک ہی