خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد ۱۰ 256 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء سے تعلق جوڑ ، رحیمیت سے تعلق جوڑ ، مالکیت سے تعلق جوڑ اس کے بعد یہ تعلقات کا معیار بہت بلند ہو چکا ہے۔اس لئے آئندہ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ فرض کر دیا کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم (النساء:۷۰) اب ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت سے عام تعلق کام نہیں دے گا جو اللہ اوراس رسول کی اطاعت کرے گا اوران اداؤں کے ساتھ خدا سے تعلق باندھے گا جن اداؤں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے رب سے تعلق جوڑا ہے اس کے لئے انعامات کے سب دروازے کھلے ہیں اور چونکہ یہ مضمون مشکل ہو گیا ہے اور بلند تر ہو گیا ہے اور ڈیمنسٹریٹر Demonstrator نے ، جس نے اس مضمون کو اپنی زندگی پر جاری کر کے دکھایا تھا اس مضمون کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے اس لئے آخری مقام تک پہنچنا مشکل تر ہو گیا ہے لیکن اس اطاعت کے ادنی مقام بھی ایسے ہیں جو گزشتہ زمانے کے اعلیٰ صلى الله مقامات کے برابر درجہ پانے والے ہیں چنانچہ آنحضرت مہ نے اس مضمون کو اس طرح کھول کر بیان فرما دیا کہ علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل علماء تو نبی نہیں ہیں اور مری امت کے معیار کے لحاظ سے نبی نہیں ہیں لیکن جہاں تک گزشتہ امتوں کا تعلق ہے ان کے نبیوں کے برابر تو میری امت میں تمہیں بہت سے علماء اور ولی اور بزرگ ملیں گے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم نے ایک ایسا وسیع دروازہ کھولا ہے اور ہمیں ایک ایسے راستے پر قدم بڑھانے کی دعوت دی ہے جو لا متناہی ہے اور تمام انبیاء کی گزشتہ تاریخ ہمارے سامنے اکٹھی صورت میں پیش کر دیتا ہے کہ گویا اس راستے پر دور تک مختلف جھنڈے لگے ہوئے ہیں اور سب سے آخر پر مقام محمدیت کا جھنڈا ہے اور مسلسل یہ صلائے عام دے رہا ہے کہ آنا ہے تو یہاں تک آؤ اور اس سے پہلے رکنے کی کوشش نہ کرو۔اس سے پہلے کی تھکن تمہیں مغلوب نہ کر دے۔پس اس سفر میں جس مقام پر بھی انسان دم دے وہی مقام اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا مقام ہے اور بہت ہی بڑا خوش نصیب ہے وہ جسے محمد رسول ﷺ کے قدموں تک پہنچنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔اس کے بعد مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین کا مضمون شروع ہوتا ہے اور وہاں بھی یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی تشریح میں اگر چہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہود مراد ہیں اور ضالین کی تشریح میں اگر چہ ہم کہتے ہیں کہ عیسائی مراد ہیں مگراللہ کی یہ شان ہے