خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد ۱۰ 255 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء عبادت کے ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔ایسی صورت میں ”عبد“ عابد بن جاتا ہے اور ایک عام انسان نہیں رہتا۔یوں تو ہر انسان خدا کا بندہ ہے لیکن سورۃ فاتحہ ایک عبد کو عابد میں تبدیل کرتی ہے۔تب اس کا یہ حق ہے کہ وہ یہ عرض کرے ايَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہ سب کچھ تیرے خزانے میں جمع ہو گیا ہمارے پاس تو رہا ہی کچھ نہیں اس لئے ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تیری مدد کے بغیر ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اس نَسْتَعِيْنُ میں بہت کچھ شامل ہے اس نَسْتَعِينُ کی دعا میں ہر دعا مانگی جاسکتی ہے اور اس دعا میں از خود حمد کی طلب بھی شامل ہو جاتی ہے۔چنانچہ جب انسان ان تمام مراحل سے گزرتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے گزرتا ہے احتیاط کے ساتھ گزرتا ہے،شرک سے اپنے آپ کو کلیۂ پاک کر لیتا ہے اور حقیقت میں خدا کے حضور اپنا مقام سمجھنے لگ جاتا ہے تو اس وقت جب إيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اس کی کہی اور ان کہی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کے بعد پھر جب اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِيْنَ کہتا ہے تو پھر دعا ئیں ایک نئے مضمون میں داخل ہو جاتی ہیں۔انعام والے مضامین ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے اور ایک جاری سلسلہ ہے۔اس ضمن میں یہ یاد رکھیں کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون میں ایک پوری تاریخ ہمارے سامنے رکھ دی گئی ہے چونکہ اس سے پہلے میں اس بات پر گفتگو کر چکا ہوں اس لئے مزید ا سے نہیں چھیڑتا لیکن اَنْعَمْتَ کے چار مراتب ہیں اور سورۃ فاتحہ کی ابتداء میں خدا کی چار صفات پیش فرمائی گئی ہیں۔ان چاروں صفات سے جس انسان کا تعلق کامل ہو جائے گا وہ انعمت میں آخری مقام تک پہنچے گا اور جس حد تک اس کا صفات باری تعالیٰ سے تعلق کمزور ہوگا اسی حد تک أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں اسے نسبتا ادنی امقام نصیب ہوگا۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی مقام ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ہر مقام جاری ہے لیکن سورۃ فاتحہ میں صفات باری تعالیٰ کو جس رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے ان صفات کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے جس کامل عبودیت کے ساتھ جس کامل انکسار کے ساتھ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے نفس کو حمد سے خالی کر کے ربوبیت سے تعلق جوڑ ارحمانیت