خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 239
خطبات طاہر جلد ۱۰ 239 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء اور آپ خوف کی وجہ سے خدا کی حمد شروع کر دیتے ہیں۔یہ مضمون تو سمجھ آ گیا۔خوف اس بات کا کہ بجلی خیر چھوڑ جائے اور اس کے شر سے ہم محفوظ رہیں۔جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے نیک وجود ہیں ان کو بھی ملائکہ کے نام سے موسوم فرمایا گیا اور ملائکہ کے طور پر ان کا بھی ذکر کیا گیا ، وہ بجلی کو دیکھ کر اس بات کی حمد کرتے ہیں کہ اے خدا! سب طاقتیں تجھ کو ہیں۔بدی سے شر بھی نکال سکتا ہے ،شر سے بدی بھی پیدا کر سکتا ہے۔بادل جو رحمت کا پانی لیکر آئے ہیں اور ان کے ساتھ بجلی کے کڑ کے بھی لگے ہوئے ہیں لیکن ان بجلی کے لڑکوں سے بھی تو خیر پیدا کر سکتا ہے۔پس ہم تیرے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے ، تیرے حضور تذلل اختیار کرتے ہوئے تیری حمد کے گیت گاتے ہیں۔ہمیں ہر چیز میں تیراحسن دکھائی دے رہا ہے۔یہاں خیفی کے ساتھ حسن کے مضمون کو باندھ دیا گیا یعنی صرف بجلی کا خوف نہیں ہے۔بجلی کے خوف پر جب غور ہوا تو پتہ لگا کہ اس کے اندر بہت سےحسن چھپے ہوئے ہیں۔بہت سی خوبیاں چھپی ہوئی ہیں۔یہ مضمون غور کرنے کے بعد اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا کی تخلیق میں ، ہر چیز میں حمد ہی حمد ہے تو بجلی سے پہلے خوف پیدا ہوا اور انسان ڈر گیا اورلرز نے لگا۔پھر مزید غور کیا تو اس کو پتا چلا کہ خدا محض ڈرانے والی باتیں تو نہیں کیا کرتا محض ہلاکت پیدا کرنے والی چیزیں تو نہیں پیدا کیا کرتا، اگر کوئی ایسی چیز ہمیں دکھائی دیتی ہے تو اس کے اندر ضرور کوئی چھپی ہوئی خیر ہے اور اس کی خیر اس کے ظاہری شر پر یقیناً غالب ہے۔اس مضمون کو وہ تفصیل سے خواہ نہ بھی سمجھ رہا ہو لیکن اگر الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے مضمون کو سمجھتا ہے تو لازماً اس کے دل میں بجلی کے کڑکوں کو دیکھ کر بھی خوف کے بعد حمد کا مضمون پیدا ہو گا اور وہ من جملہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا کہ خدا کے ہر جلوے میں حسن ہے خواہ وہ جلوہ بظاہر ایک نہایت ہی خوفناک منظر پیدا کر رہا ہو۔ایک دل ڈرانے والا اور ہول پیدا کرنے والا جلوہ دکھائی دیتا ہو اس کے اندر حمد ضرور ہے۔اب آپ مزید غور کریں کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہے وہ بجلی کے مضمون پر غور کریں تو ان کی حمد نسبتاً زیادہ حمد کی مستحق حمد ہوگی۔یہ مضمون بیان کرنا ذرا مشکل تھا۔اس لئے مجھے سمجھانے میں وقت لگا۔حمد تو ہر حالت میں خدا ہی کو واجب ہے ،اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن کس حد تک ہمیں علم ہے کہ وہ حمد کا مستحق ہے۔یہ مضمون اس کی حمد میں مزید وسعت پیدا کر دیتا ہے پس بجلی کو