خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 20
خطبات طاہر جلد ۱۰ 20 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء نظر انداز کر سکتی ہے۔ ایسے ظالموں کو جنہوں نے قتل و غارت کیا، جنہوں نے لوٹ مار کی ، گھروں کو جلایا ، ان کو خود زندہ رہنے کا کیا حق رہ جاتا۔ رہ جاتا ہے۔ اگر آج اس ظلم کے خلاف بیک وقت تمام قوموں نے مل کر پیش قدمی نہ کی اور ظالم کو سزا نہ دی تو پھر ظالموں کی راہیں کھل جائیں گی اور کوئی بھی کسی کو ظلم کی راہ پر چلنے سے روک نہیں سکے گا۔ یہ موقف ہے اس کا خلاصہ یہ ہے اور عراق کا مؤقف اس کے برعکس یہ ہے کہ تم بڑے بڑے اصولوں کی اور اعلی اخلاق کی باتیں کر رہے ہو لیکن بھول جاتے ہو کہ مشرق وسطی میں عرب علاقوں میں جو کچھ بھی بے اطمینانی ہے اور بے چینی ہے جس کے نتیجے میں بار بار امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس کے اصل ذمہ دار تم ہو اور جب بھی ایسے مواقع آئے جب اُن مسائل کو جو مشرق وسطی سے تعلق رکھتے ہیں حل کیا جا سکتا تھا تو تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے روکیں پیدا کیں اور ایسی ہی بات جو ہم نے کی ہے یعنی جسے تم نا جائز قبضہ کہتے ہو ، عراق ناجائز تو نہیں کہتا مگر کہتا ہے کہ جس طرح ہم نے کویت پر قبضہ کیا ہے اس طرح اسی قریب کے زمانے میں اسرائیل نے اُردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے اور تم United Nations کی باتیں کرتے ہو حالانکہ United Nations نے بار ہا ریز و یوشنز کے ذریعے اسرائیل کو قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشیش کیں اور ہر بار خصوصیت کے ساتھ امریکہ نے ان کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکائے اور بلکہ اگر Resolutions کو Vito کرنا پڑا تو ویٹو کر دیا۔ تو عراق ، امریکہ اور برطانیہ کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ تم اخلاق اور پھر اعلی اصولوں کی باتیں ترک کر دو ۔ اگر واقعی تمہارے نزدیک ان اصولوں کی کوئی قدر و قیمت ہے تو پھر مجموعی طور پر ان تمام مسائل کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرو اور ایک ہی طریق پر حل کرنے کی کوشش کرو، جو مسائل عراق کویت مسئلے سے ملتے جلتے پہلے ہیں اگر تم ایسا کرو تو ہم اس بات پر رضا مند ہوتے ہیں کہ ہم بھی انہی اصولوں کے مطابق جو بھی انصاف کے فیصلے ہیں ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے ۔ ایک پہلو تو ان کے موقف کا یہ ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کسی ملک کو کسی ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دی جائے محض اس لئے کہ وہ طاقتور ہے تو پھر دنیا سے امن ہمیشہ کیلئے اُٹھ جائے گا۔ یعنی ظلم والے حصے کے علاوہ اس کو الگ پیش کیا جاتا ہے اور قبضے والے حصے کو الگ پیش کیا جاتا ہے گویا وہ دو دلائل ہیں ۔ اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جو تو میں یہ باتیں کرتی ہیں اُن کی اپنی تاریخ اُن کے خلاف ایسی سخت گواہی دیتی ہے کہ کبھی دنیا سے موجود