خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد ۱۰ 231 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء کہ اے خدا! تو نے ان بد بختوں کو دولتیں بھی اتنی دے دیں کہ ان کے مقابل پر سارے عالم اسلام کی مجموعی دولت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور پھر ہتھیار بھی ان کو ایسے عطا فرما دیئے کہ جن میں سے صرف ایک ہتھیار کے ایک حصے کو استعمال کر کے یہ دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور مقابل پر ہمیں احمدیوں کو کھڑا کر دیا ہے جن کے پاس کچھ بھی نہیں جو ایک بہت ہی غریب جماعت ہیں۔لیکن ساتھ ہی ہمیں خوش خبری بھی دی اور یہ خوش خبری دی کہ تمہاری دعاؤں کو میں سنوں گا اور ان دعاؤں کی برکت سے میں بالآخر ان عظیم قوموں کو پارہ پارہ کردوں گا۔اور آنحضرت ﷺ نے نقشہ یہ کھینچا ہے کہ جس طرح نمک سے برف پگھلتی ہے اس طرح تمام دجالی طاقتیں جو انسانیت اور حق کی دشمن ہیں وہ برف کی طرح پگھل کر غائب ہو جائیں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا تو دعاؤں کی طاقت آپ کے پاس ہے۔اس عظمت کو پہچانیں اور یا درکھیں کہ یہ عظمت انکساری میں ہے۔اس بات کو کبھی نہ بھولیں۔دنیا کی طاقتوں اور مذہبی طاقتوں میں یہ بنیادی فرق ہے کہ دنیا کی طاقتیں تکبر پر منحصر ہوتی ہیں اور مذہبی طاقتیں عجز پر منحصر ہوتی ہیں۔پس دعا میں اتنی زیادہ رفعت پیدا ہوگی جتنا آپ خدا کے حضور جھکیں گے۔دعا میں اتنی ہی زیادہ طاقت پیدا ہوگی جتنا آپ بے طاقتی محسوس کریں گے۔آپ کی بے بسی کے نتیجے میں دعاؤں کو قو تیں عطا ہوں گی۔پس اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہوئے اس رمضان سے حتی المقدور فائدہ اٹھائیں اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ بے بسی کے عالم میں خدا کے حضور بچھ جائیں کہ اے خدا! ان بڑی بڑی طاقتوں کے شر کے ارادوں کو باطل کر دے اور جوان کی خیر ہے وہ باقی رکھ۔ہمیں کسی قوم سے من حیث القوم نفرت کی اجازت نہیں ہے۔نہ نفرت ہمارے خمیر میں داخل فرمائی گئی ہے اس لئے ہم دنیا کی جاہل قوموں کی طرح مغربی طاقتوں کے خلاف نہ دعائیں کر سکتے ہیں نہ نفرت کے جذبے رکھ سکتے ہیں۔ہم شر سے متنفر ہیں اور اپنی دعاؤں کو خصوصیت کے ساتھ شر کے خلاف رکھیں۔قومی اور عصبیتی رنگ میں بعض قوموں کی ہلاکت کی دعائیں نہ کریں۔یہ دعا کریں کہ اے خدا! جو مشرق میں تیرے عاجز بندے ہیں ان کے ساتھ بھی کچھ شر وابستہ ہیں ان