خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد ۱۰ 230 خطبہ جمعہ ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ آخری دور میں جب بلائیں اپنی انتہا کو پہنچ جائیں گی تو اس وقت مسیح موعود کی دعائیں ہی ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے اسلام کو اور دنیا کو بچائیں گی۔پس اس پہلو سے یہ رمضان عین وقت پر آیا ہے یعنی جب بلا ئیں کھل کر سامنے آچکی ہیں اور کچھ ان کے پس پردہ مخفی ارادے ہیں جو ظاہری ارادوں سے بھی بدتر ہیں لیکن ہمیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اس بلا کے پیچھے پیچھے اور بھی بہت سی بلائیں آنے والی ہیں۔اس وقت ہم رمضان مبارک میں داخل ہور ہے ہیں اور دعاؤں کا خاص موقع ہمیں میسر ہوگا۔پس اس رمضان مبارک کو خصوصیت کے ساتھ بنی نوع انسان کے دفاع کا رمضان بنادیں۔مسلمانوں کے دفاع کا رمضان بنادیں۔انسانیت کے دفاع کا رمضان بنادیں اور اسلام کے دفاع کا رمضان بنادیں اور دعا یہ کریں کہ اے خدا! ہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنی بڑی بڑی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو خود تو نے پیدا کی ہیں اور جن کی خبر تو نے اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد اللہ کے ذریعے ہمیں 1400 سال پہلے عطا فرما دی تھی۔پس ہم کمزور ہیں، نہتے ہیں، بے طاقت ہیں اور ہمارے مقابل پر جو طاقتیں ہیں ان کو تو نے ہی اتنی دنیاوی عظمت بخش دی ہے کہ ہم ان کے سامنے بالکل بے بس ہیں ، پس تیری ہی طرف ہم جھکتے ہیں، تجھ سے ہی رجوع کرتے ہیں، تجھ سے ہی عاجزانہ دعائیں کرتے ہیں کہ ان پیشگوئیوں کے دوسرے حصوں کو بھی سچا کر دکھا، یعنی مسیح موعود اور آپ کی دعاؤں کی برکتوں سے دنیا کی یہ عظیم طاقتیں اپنے ایسے دنیا وی خزائن کے ذریعے جن کے مقابل پر ہمیں ایک دمٹری کی بھی حیثیت حاصل نہیں دنیا کے ایمان خرید رہی ہیں۔تو ہی ہے جو اس دنیاوی دولت کے شر سے لوگوں کو بچا۔یہ اپنے ایسے عظیم ہتھیاروں کے ذریعے جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور جن کی ڈھیریاں پہاڑوں کے برابر ہیں اور جن کے اندر ہلاکت کی ایسی طاقتیں ہیں کہ صرف اگر ایٹم بم کو ہی استعمال کیا جائے یعنی ایٹم بم کے ان ذخائر کو استعمال کیا جائے جو امریکہ اور روس میں ہیں تو سائنسدان بتاتے ہیں کہ یہ ساری دنیا بیسیوں مرتبہ ہلاک کی جاسکتی ہے اور ان میں اتنی ہلاکت کی طاقت ہے کہ صرف دنیا میں بسنے والے انسان ہلاک نہیں ہوں گے بلکہ اس دنیا سے زندگی کا نشان تک مٹ سکتا ہے۔پس یہ دعا کرنی چاہئے