خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد ۱۰ پردے میں چھپا ہوا شر تو نہیں ۔ 229 خطبه جمعه ۱۵ مارچ ۱۹۹۱ء پس جو باتیں میں آپ کے سامنے کھول کر رکھ رہا ہوں ، ان کے مضمون پر جب آپ غور کریں گے تو زیادہ محتاط ہو جائیں گے۔ پھر دوسری شکل یہ ہے کہ جو شخص جو شخص ہر سال اپنے آپ کو پہلے سے بدتر حالت میں پائے یا ویسی ہی حالت میں پائے وہ خطرے سے باہر نہیں ہے۔ آنحضرت اللہ کے متعلق حضرت احدیت جل شانہ نے جو یہ فرمایا کہ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى (الضحی : ۵) کہ تیری آخرت پہلے سے بہتر ہے تو یہ بہت وسیع مضمون ہے اس کا میں بارہا ذکر کر چکا ہوں لیکن یہ ایک نہ ختم ہونے و مضمون ہے۔ ہر ا چھی صورتحال پر اس کا اطلاق ہوتا ہے پس اس نظر سے اپنا مطالعہ کرنا چاہئے کہ ہمارا بعد کا آنے والا رمضان گزرے ہوئے رمضان سے بہتر رہا کہ نہیں اور ہمیں اس سے بہتر حالت میں پانے والا بنا کہ نہیں اور اس سے بہتر حالت میں چھوڑنے والا بنا کہ نہیں ۔ والا یہ تین نقطہ ہائے نگاہ ہیں جن سے اپنے حالات پر غور کرنا چاہئے اور رمضان سے اپنے تعلقات کو سمجھنا چاہئے ۔ اس رمضان میں خصوصیت سے عالم اسلام کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔ بہت سے امور میں گزشتہ خطبات میں آپ کے سامنے کھول کر رکھ چکا ہوں۔ بہت سے ایسے خطرات ہیں جو مجھے دکھائی دے رہے ہیں لیکن ان کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں تھا بلکہ بعض کا تو میں ذکر بھی نہیں کر سکا لیکن بعض اشاروں میں ان کے متعلق باتیں ہو چکی ہیں ۔ چونکہ میں اب اس مضمون کو ختم کر چکا ہوں اس لئے دوبارہ اس مضمون کو چھیڑ نا نہیں چاہتا لیکن یہ میں آپ کو مختصر ابتادیتا ہوں کہ آئندہ چند ماہ کے اندر مسلمانوں کے متعلق ہی نہیں بلکہ دنیا کی تقدیر کے متعلق بعض ایسے خوفناک فیصلے بھی ہو سکتے ہیں کہ جن کے نتیجے میں ساری صدی دکھوں سے چور ہو جائے گی اور نہایت ہی دردناک زمانے کا منہ انسان دیکھے گا اور کچھ ایسے فیصلے بھی ہو سکتے ہیں جن کے نتیجے میں شیطان کی اجتماعی قوت کے ساتھ جو آخری بھر پور حملہ ہونے والا ہے اس کا دفاع کرنے کی انسان کو اور خصوصیت سے مسلمانوں کو توفیق مل جائے کیونکہ اگر مسلمانوں نے اس کا دفاع کر لیا تو تمام بنی نوع انسان مسلمانوں کے دفاع کے پیچھے حفاظت میں آجائیں گے اور مسلمانوں کے دفاع کی سب سے بڑی ذمہ داری احمد یوں پر عائد ہوتی ہے اور یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کی بناء حضرت اقدس محمد مصطفی رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث پر صلى الله