خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 228

خطبات طاہر جلد ۱۰ 228 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء مہینے میں ہمیشہ کروٹیں بدلتا ہوا مختلف پہلوؤں سے خدا سے التجائیں کرتا ہوا، مختلف زاویہ ہائے نظر سے اپنی کمزوریوں کا مطالعہ کرتا ہوا مسلسل ایک نئی کیفیت کے ساتھ گزرتا چلا جائے گا یعنی رمضان مبارک میں یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی کیفیت سے داخل ہوں اور اسی کیفیت سے باہر آئیں بلکہ ہر روز ایک نیا مضمون آپ پر ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔ہر روز رمضان مبارک کی نئی برکتیں آپ کی آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتی رہیں گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر اس طرح آپ جستجو اور محنت سے اس مہینے سے گزریں گے تو ایک نیا وجود پا کر نکلیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔جب اس مہینہ سے نکل جاتے ہیں تو پھر واپسی کا دور بھی شروع ہو جایا کرتا ہے اور اسی رمضان مبارک میں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ جس مقام سے چلے تھے اگلے رمضان مبارک میں داخل ہوتے وقت اس مقام پر نہ پہنچ چکے ہوں اور بلکہ خطرہ ہے کہ اس سے نیچے نہ گر چکے ہوں۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان رمضان مبارک میں سے نیک نیت کے ساتھ گزرتا ہے۔جدوجہد کے ارادے لے کر داخل ہوتا ہے۔پھر اسے اپنے ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی توفیق بھی ملتی ہے اور وہ رمضان سے بہت کچھ پاتا ہے اور بہت بدیاں چھوڑ کر اس مہینے سے باہر آتا ہے لیکن جب وہ باہر آتا ہے تو پھر از سرنو وہی غفلتوں کا دور شروع ہو جاتا ہے اور وہی سستیاں جن کے نتیجے میں جگہ جگہ گندگی جمع ہونی شروع ہو جاتی ہے ، عود کر آتی ہیں۔ایسی صورت میں بعض دفعہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ آئندہ رمضان کے وقت انسان اپنے آپ کو اس سے بدتر حالت میں پائے جس حالت میں گزشتہ رمضان میں داخل ہوا تھا۔پس رمضان کے یہ جو دو کنارے ہیں ان کے مضمون کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔داخل ہونے والا جو کنارہ ہے اس میں ہم گناہوں اور بداعمالیوں سے بوجھل ہوکر داخل ہوتے ہیں۔بہت سے داغ ہمارے چہرے پر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔بہت سی کثافتیں ہمارے جسم کو گندا کئے ہوئے ہوتی ہیں۔ہم صفائی کی نیت سے اور پاک نیت سے رمضان مبارک میں داخل ہوتے ہیں، نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کر باہر نکلتے ہیں اور پھر اچانک یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب محنتوں کا دور ختم ہوا۔عید کے ساتھ ہی یہ دھو کہ لگ جاتا ہے کہ یہ عید نیکیوں کی عید نہیں بلکہ گناہوں کی زندگی کی طرف لوٹنے کی عید ہے۔شعوری طور پر انسان یہ نہیں کرتا لیکن لاشعوری طور پر دنیا کے اکثر انسانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے اور وہ معلوم بھی نہیں کر سکتے کہ ہم کیوں خوش ہیں اور یہ خوشی کہیں خیر کے