خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد ۱۰ 224 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء ساتھ پھلانگتے ہوئے گزر جائیں گے۔فرمایا:۔دو یا جوج ماجوج کی اس ٹڈی دل فوج کے اگلے حصے ، فيمروا لهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ، بحیرہ طبریہ کے پاس سے گزریں گے اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے اور جب اس فوج کا آخری حصہ وہاں پہنچے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا وہ اب کہاں گیا۔ان روح فرسا حالات میں نبی اللہ مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ساتھی رضی اللہ عنہم اللہ کے حضور دعائیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرمائے گا۔فيرسل الله تعالى عليهم النغف في رقابهم اور یا جوج ماجوج کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا۔( صحیح مسلم۔کتاب الفتن ، باب الذکر الدجال ) جو بڑے پیمانے پر تیزی سے ان کی ہلاکت کا موجب بنیں گے۔پھر ایک دوسری حدیث میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں۔لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها الا فشافيهم الطاعون ولا وجاع التي لم تكن مفت فى الاسلا فهم الذين مضوا ( سنن ابن ماجہ۔کتاب الفتن۔باب العقوبات ) یعنی اگر کوئی قوم جنسی بے حیائی میں مبتلا ہو جائے اور اس کی نمائش کرے تو اس میں ایک قسم کی طاعون کی بیماری پھیل جاتی ہے جو ان سے پہلوں میں کبھی نہیں پھیلی۔یہ وہ حدیث ہے خصوصیت کے ساتھ Aids کی بیماری کی طرف کھلے کھلے لفظوں میں اشارہ کر رہی ہے اور یہ Aids وہ بیماری ہے جسے ایک قسم کی طاعون کہا جاتا ہے اور یہ وہ بیماری ہے جس کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں نہیں پھیلی۔دلچسپ بات ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو بھی خدا تعالیٰ نے ایک نئی قسم کی طاعون پھیلنے کی خبر دی تھی۔یہ 18 مارچ 1907ء کا الہام ہے۔فرماتے ہیں۔یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہوگی، ( تذکرہ صفحہ ۷۰۵ ) پس ایک یہ ہلاکت ہے جو آج نہیں تو کل مقدر ہے۔اگر ان قوموں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ان کی بداعمالیوں کے نہایت خوفناک نتائج نکلیں گے۔اس موقعہ پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ انذاری یعنی ڈرانے والی پیشگوئیاں ہمیشہ مشروط