خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد ۱۰ 220 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء میں مختصراً بتادوں کہ کس طرح ہوئے ایک وعدہ تو شروع ہوا 1 72 قبل مسیح میں جبکہ Assyrians نے یہود کی دو مملکتوں میں سے شمالی مملکت کو تاخت و تاراج کیا اور اس پر قبضہ کر لیا اور یہ سماریہ بستی سے تو اسے تعلق رکھنے والی مملکت تھی جسے اس جسے اسرائیل کہا جاتا تھا۔ پس 721 قبل مسیح میں یہ واقعہ شروع ہوا مکمل نہیں ہوا۔ اس کی تکمیل ۵۹۷ قبل مسیح سے شروع ہوئی اور 587 قبل مسیح میں پھر وہ دور اپنے درجہ کمال کو پہنچا یعنی وہ طاقت جس کو توڑنے کا آغاز اسیریز سے ہوا تھا۔ 124 سال کے بعد دوسر ا سلسلہ (اس کے توڑنے کا ( شروع ہوا اور اس دفعہ بابلیوں میں سے نبو کد نضیر Nebchadnezzar نے یہودیوں کی بقیہ مملکت پر جسے جو دیا کہا جاتا تھا یا جو داJudah بھی کہتے ہیں اور جس میں یروشلم دارالخلافہ ہے اس پر حملہ کیا۔ پس یا درکھیں کہ اس وعدے کے مطابق پہلا حملہ اسرائیل کو یعنی یہودیوں کی سلطنت کو ارض کنعان میں توڑنے کے لئے 721 قبل مسیح میں ہوا اور اسیرین نے اس کا آغاز کیا اور اس کی تکمیل کے لئے دوسرا سلسلہ بنو کد نضر 597 قبل مسیح میں شروع کیا اور 587 قبل مسیح میں مکمل کیا۔ دونوں دفعہ یہود کی طاقت کو شدید ضر میں لگائی گئیں لیکن دوسری دفعہ عملاً اسے بالکل ملیا میٹ اور نیست و نابود کر دیا گیا۔ بے شمار یہودیوں کو قیدی بنا کر بنو کد نضر ساتھ لے گیا اور اس میں حضرت حز قیل بھی ساتھ رت حز قیل کی کتاب سے پتا چلتا ہے کہ یہ سزا جو یہود کو ملی تھی یہ اس لئے ملی تھی کہ ان کی کتاب میں جو الہی محاورہ ہے وہ یہ ہے کہ ان دو بستیوں کی مثال دو کسی عورتوں کی طرح ہوگئی تھی جو اپنا جسم بیچتی ہیں اور بے حیائی میں حد سے بڑھتی چلی جاتی ہیں اور غیروں کو اپنا دوست بناتی ہیں اور خدا سے دوستی تو ڑ رہی ہیں۔ بہت ہی خوفناک نقشہ کھینچا گیا ہے اور فرمایا کہ پھر جیسی سزا مقدر تھی خدا نے ان سے پھر تعلق تو ڑ لیا اور کہا اسے کسی عور تو ! جس کی تم ہو اسی کی ہور ہو۔ چنانچہ واقعہ بن کد نضر نے ان کسبیوں کو اٹھا کر اپنے وطن سے جدا کر دیا اور ہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس کے بعد 551 یا 53 میں اس کے لگ بھگ حضرت حز قیل نبی کی کوششوں سے اہل فارس سے تعلقات کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا اور ھا روت ماروت کا جو ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے یہ وہی زمانہ ہے اس کے نتیجے میں ان سے انہوں نے مدد حاصل کی ۔ اگر چہ یہ انقلاب بعد میں آیا لیکن یہ حضرت حزقیل کے زمانے میں ہی شروع ہوا تھا۔ چنانچہ نبو کد نضر کے دوسرے شدید حملے کے 48