خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 219

خطبات طاہر جلد ۱۰ 219 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء پہلی بغاوت تم کرو اور تمہیں سزا ملے اور وہ سزا دے دی گئی۔ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَكُمْ اَكْثَرَ نَفِيرًا ( بنی اسرائیل: ۷ ) پھر ہم نے تمہیں دوبارہ ان پر ایک طاقت عطا کر دی ، غلبہ عطا فرما دیا اور ہم نے تمہاری مدد کی اسی ذریعے سے، اموال کے ذریعے سے بھی اور اولاد کے ذریعے سے بھی اور پھر ہم نے تمہیں بڑھاتے ہوئے ایک بڑی طاقت بنادیا۔إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا (بني اسرائیل: ۸ ) لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر تم اب حسن سلوک کرو گے اور پہلی بدیاں ترک کر دو گے تو دراصل اپنے سے ہی حسن سلوک کرنے والے ہو گے اور اگر تم نے پھر وہی بدی اختیار کی جو پہلے کر چکے تھے تو پھر وہ بدی بھی تمہارے خلاف ہی پڑے گی یعنی عملاً تم اپنے سے وہ بدی کرنے والے ہو گے۔فرمایا: فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ (بنی اسرائیل:۸) پھر دوسری دفعہ وعدہ پورا کرنے کا وقت بھی آگیا جیسا کہ دو وعدے کئے گئے تھے۔لِيَسُوا وُجُوهَكُمْ کہ یہ تقدیر پوری ہو کہ تم پھر بدی کرو گے اور اس بدی کا مزا چکھو گے اور تمہارے چہرے رسوا اور کالے کر دیے جائیں گے وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيَتَبِرُوا مَا عَلَوْا تَثْبِيرًا (بنی اسرائیل: ۸) تا کہ وہ دوبارہ مسجد میں داخل ہوں جس طرح پہلے داخل ہوئے تھے اور اسے تباہ و برباد کر دیں۔( یہاں ہیکل سلیمانی مراد ہے ) یہ دو وعدے تاریخ میں پورے ہو گئے ، ایک تیسرا بھی ہے ، اس کا بھی قرآن کریم کی اسی سورۃ میں ذکر ملتا ہے۔(چنانچہ ) اگلی آیت یعنی نویں آیت میں فرمایا: عَسَى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ (بنی اسرائیل: ۹) کہ اس کے بعد پھر جب خدا چاہے گا اوراگر خدا نے چاہا بلکہ عسی کا مطلب ہے۔ہوسکتا ہے عین ممکن ہے کہ خدا یہ چاہے۔اَنْ يَّرْحَمَكُھ کہ ایک دفعہ پھر تم پر رحم فرمائے لیکن یا درکھنا جب تم پر رحم کیا جائے گا تو اس بات کو نہ بھلا نا وَ اِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا اگر تم نے پھر ان سب بدیوں کا اعادہ کیا اور تکرار کی تو ہم بھی ضرور ان سزاؤں کا اعادہ کریں گے جن کے دو دفعہ تم ماضی میں مزے چکھ چکے ہو۔وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِيْنَ حَصِيرًا اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں پھر اور کوئی چوتھی حرکت ان کی طرف سے نہیں ہوگی کیونکہ پھر جہنم کا ذکر ہے۔اس کے بعد دنیا کے معاملات طے اور ختم پھر آخری فیصلہ قیامت کے بعد ہوگا اور جہنم کے ذریعے سزادی جائے گی۔پہلے دو وعدوں کے متعلق