خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 218

خطبات طاہر جلد ۱۰ 218 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء قو میں آزاد نہیں ہوسکیں گی اور یہ ادارہ مزید خطرات لے کر دنیا کے سامنے آئے گا اور اسے بار بار بعض خوفناک مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔اس کی تفصیل میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں۔اب میں آخری بات آپ کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کو بھی آج مخاطب ہو کر میں ایک مشورہ دے رہا ہوں۔عام طور پر مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کا قیام مغرب کی سازش کے نتیجے میں ، اسرائیل کی چالاکیوں کے نتیجے میں ہوا ہے یہ اپنی جگہ درست ہے۔لیکن اگر خدا کی تقدیر یہ نہ چاہتی تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔اس تقدیر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس تقدیر نے آج اسرائیل کا مسئلہ کھڑا کیا ہے اور اسی تقدیر کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا کیا حل ہے۔پس میں قرآن اور حدیث پر بنارکھتے ہوئے اس مسئلے کو آج آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں اور اسرائیل کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ آج امن عالم کا انحصار اسرائیل پر ہے اور اسرائیل کے فیصلوں پر ہے اور یہی ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔قرآن کریم میں سورہ اسراء جسے بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ، اس میں اس مسئلے پر چند آیات ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔آیت نمبر 5 یعنی اگر بسم اللہ کو شمار کریں تو پانچ ورنہ چار فرماتی ہے۔وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا ( بنی اسرائیل :(۵) کہ ہم نے بنی اسرائیل کے لئے مقدر کر دیا تھا کتاب میں، یعنی غالباز بور مراد ہے یا تقدیر کی کتاب ہوسکتی ہے، بہر حال ہم نے کتاب میں اسرائیل کے ضمن میں یہ تقدیر بنادی تھی ، یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ ك ت يقينا دو دفعہ زمین میں فساد برپا کرو گے وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا اور بہت بڑی بغاوتیں کرو گے۔اگلی چھٹی آیت فرمائی ہے : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَو لَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادً انَّنَا أُولى بَأْسٍ شَدِيدِ فَجَاسُوا خِللَ الدِيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا (بنی اسرائیل :۷ ) کہ جب پہلا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو ہم نے تم پر ایسے بندے مبعوث فرما دیے جو بہت شدید جنگ کرنے والے بندے تھے۔ہمارے بندے ایسے تھے جو نہایت سخت جنگجو تھے وہ تمہارے گھروں کے بیچ میں گھس گئے۔وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا اور خدا کا وہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا اس وعدے کو کوئی ٹال نہیں سکتا تھا کہ