خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد ۱۰ 216 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء فیصلے کو بزور نافذ کرنے کا اختیار بھی ان کو نہیں ہو سکتا اور اگر عدلیہ ہے تو ان کے عدل کا اثر کہاں کہاں تک جائے گا؟ وہ تو میں جو ان کی ممبر نہیں ہیں ان پر بھی پڑے گا کہ نہیں؟ یہ ایک اور سوال ہے جو اس کے نتیجے میں اٹھتا ہے۔پھر اگر یہ محض ایک مشاورتی ادارہ ہے تو فیصلوں کو بزور نافذ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا ایسی صورت میں محض اسی حد تک اخلاقی دباؤ کا ضابطہ طے ہونا چاہئے جس کا سب قوموں کے خلاف برابر اطلاق ہو سکے۔اور اگر یہ محض تعاون کا ادارہ ہے تو تعاون کس طرح لیا جائے اور کون کون سے ذرائع اختیار کئے جائیں اور اگر تعاون حاصل نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ یہ سب فیصلے ہونے والے ہیں۔اسی طرح اگر یہ حض فلاح و بہبود کے کاموں میں غریب قوموں کی مدد کر نے کا ادارہ ہے تو اس پہلو سے بھی یہ حیثیت واضح اور معین ہونی چاہئے اور سیاست اور رنگ ونسل سے بالا رہ کر غریب قوموں یا آفت زدہ علاقوں کی امداد کا ایسا لائحہ عمل تیار ہونا چاہئے جس کی رو سے اقوام متحدہ کی انتظامیہ آزادانہ فیصلے کر سکے اور آزادانہ تنقید کی اہلیت بھی رکھتی ہو۔یہ سوال بھی لازماً طے ہونا چاہئے کہ اقوام متحدہ کی انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلوں کے نفاذ کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے ماننے پر مجبور ہو۔جب تک ان سوالات کا تسلی بخش جواب نہ ہو جس سے غریب اور کمزور قوموں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ملتی ہو یہ ادارہ محض طاقتور قوموں کی اجارہ داری کا ایک پر فریب آلہ کار بنارہے گا۔ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ عدلیہ ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ ایک ایسا غریب ملک جس کی حمایت میں نہ امریکہ ہو، نہ روس ہو، نہ چین ہو، نہ فرانس ہو، نہ برطانیہ ہو اور اس کے حق میں اگر اقوام متحدہ کوئی بڑا فیصلہ کر دیتی ہے یعنی دوتہائی کی اکثریت سے فیصلہ کر دیتی ہے کہ یہ مظلوم ملک ہے اس کی حمایت ہونی چاہئے تو اس فیصلے کو نافذ کیسے کریں گے؟ وہ کیسی عدلیہ ہے جسے فیصلوں کو نافذ کرنے والی طاقتوں کا تعاون نصیب نہ ہو ، اور تعاون حاصل کرنے کا قطعی ذریعہ اسے میسر نہ ہو۔اس کی مثال تو ویسی ہی ہے کہ جیسے ایک دفعہ جب امریکہ کے ریڈ انڈینز نے امریکہ کی حکومت کے خلاف وہاں کی عدالت عالیہ میں اپیل کی اور یہ مسئلہ وہاں کی سپریم کورٹ کے سامنے رکھا