خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 215
خطبات طاہر جلد ۱۰ 215 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء ہوتی ہے۔پس ان ممالک کو ہندوستان، پاکستان فلپائن وغیرہ یا جن جن ممالک سے لوگ آتے ہیں وہاں اکٹھے ہو کر یہ فیصلے کرنے چاہئیں کہ ہم اپنے مزدوروں کو عزت اور وقار کا تحفظ دیں گے اور اگران کی حق تلفی کی گئی یا ان سے بدسلوکی کی گئی تو سب مزدور مہیا کرنے والے ممالک مل کر تا جر ممالک پر دباؤ ڈال کر اپنے مزدوروں کے حق دلوائیں گے۔اسی طرح توازن پیدا ہو جائیں گے اور توازن کے نتیجے میں امن پیدا ہوتا ہے کیونکہ تو ازن ہی عدل کا دوسرا نام ہے جس کو قرآن کریم نے میزان بھی قرار دیا ہے۔پس امن بڑی قوموں کے طاقتور بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں یا صدروں کے تحامات سے تو قائم نہیں ہوا کرتا۔امن تولا ز ما توازن کے نتیجے میں قائم ہوں گے اور توازن عدل سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس تمام عالمی سیاست میں نئے توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس عہد کی ضرورت ہے کہ ہماری ہر انجمن ہمارا ہر اتحاد عدل کی بالا دستی کے اصول پر قائم ہوگا۔پس یہ جتنی انجمنوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں یہ بنیادی شرط ہونی چاہئیے کہ ہر شامل ہونے والا ملک یہ عہد کرے کہ میں عدل کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہوں ، اپنے مفادات کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کرتا۔اور پھر ایسے انتظام ہونے چاہئیں کہ عدل کی بالا دستی کا واقعی کوئی نہ کوئی ذریعہ پیدا کیا جائے اور عدل کا احترام نہیں کرتا اس کو اس نظام سے الگ کر دیا جائے۔جو موجودہ یونائیٹڈ نیشنز (United Nations) ہے اس میں کئی قسم کے اندرونی تضادات بھی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ نئی انجمنوں میں ایسے تضادات پیدا نہ ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ یہ عجیب ظالمان قانون ہے کہ اگر ساری دنیا میں امریکہ روس ، چین وغیرہ پانچ ملکوں میں سے صرف ایک ملک کسی ملک پر ظلم کرنے کا فیصلہ کر لے تو جس پر چاہے اس پر حملہ کروادے۔اس کے لئے عالمی طاقتوں کو جوابی کارروائی کا کوئی حق حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممالک میں سے ایک ملک اس بات پر قائم رہتا ہے کہ میں کسی کو اس ملک کے خلاف جوابی کارروائی کی اجازت نہیں دوں گا۔اس کا نام ویٹو ہے یہ فیصلہ آج تک نہیں ہوا کہ یونائیٹڈ نیشنز یا سیکیورٹی کونسل کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ عدلیہ ہے؟ اگر یہ عدلیہ ہے تو پھر بین الاقوامی عدالت کی کیا ضرورت ہے اگر یہ عدلیہ نہیں ہے تو جھگڑوں میں فیصلہ کرتے وقت یہ کیسا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ اور پھر عدلیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس