خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد ۱۰ 214 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء کر سکتے ہیں مگر اپنی دھن اور اصولوں پر اگر یہ قائم رہیں تو تھوڑی دیر کے بعد دباؤ کا یہ کھیل ختم ہو جائے گا۔پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کے بہت مفید نتائج ظاہر ہوں گے۔تیسری دنیا کے وہ ممالک جن میں تیل نہیں ہے ان کو بھی اپنی ایک متحدہ بے تیل کے ملکوں کی انجمن بنانی چاہئے کیونکہ جب بھی دنیا میں کسی قسم کے فسادات ہوتے ہیں ، ہنگامے ہوتے ہیں۔جنگیں ہوتی ہیں تو یہی بیچارے غریب ممالک ہیں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں پس اپنے تحفظات کے لئے ان کو اکٹھے ہو جانا چاہئے اور تیل والے ملکوں سے کچھ لمبے سمجھوتے کرنے چاہئیں تا کہ گذشتہ تجارب کی روشنی میں آئندہ کے احتمالات سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہو سکے۔اس ضمن میں ایک اور چھوٹا سا اتحاد قائم کرنا بھی ضروری ہے وہ ممالک جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کو مزدور مہیا کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان کے مزدوروں کو اس طرح ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے اور ایسا ظالمانہ سلوک ان سے ہوتا ہے اور ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں قومی غیرت پچلی جاتی ہے اور قوم کے اندر ایک بے حیائی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔مجھے تو جانے کا موقعہ نہیں ملا مگر بعض مسافروں نے گلف میں کام کرنے والے بعض مزدوروں نے اس سلوک کے جو قصے سنائے ہیں جو ہوائی اڈوں پر اترتے ہی ان سے شروع ہو جاتا ہے اس کا سننا ہی ایک با غیرت شخص کے لئے ناقابل برداشت ہے۔مثلاً ہوائی اڈوں پر جب پاکستانی جہاز پہنچتے ہیں تو مقامی سپاہی ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ،ہوٹیاں اٹھائی ہوئی ان کے ٹخنوں پر مارتے ہیں کہ یوں سیدھے ہو ، یہاں کھڑے ہو، ایسے قطار بناؤ اور ایسا ذلت آمیز سلوک ان سے ہوتا ہے کہ جس طرح گائے بھینسوں کو ظالم ممالک میں ہانکا جاتا ہے۔جو ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں تو گائے بھینس کی بھی اس سے زیادہ عزت کی جاتی ہے تو یہ کب تک برداشت کریں گے؟ غلاموں کی طرح ان سے سلوک اور پھر ان کی کمائیوں کا کوئی تحفظ نہیں یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ وہ غریب مزدوری کرنے جاتے ہیں اور وہ مزدوری کے نتیجے میں ساری عمر کی کمائیاں لاکھ دو لاکھ جو کماتے ہیں ، اگر ان کا مالک ناراض ہو جائے اور فیصلہ کر لے کہ ان کا حق نہیں دوں گا تو معاہدہ اس قسم کا ہوا ہوتا ہے کہ اس کے اختیار میں ہے کہ نہ دے اگر عدالت میں جائیں بھی تو وہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو نوکر رکھنے والا اگر ظالم اور سفاک ہو اور اس کو یقین ہو کہ میں جو چاہوں کرلوں گا تو نوکر کو تو غلام سے بھی زیادہ ذلت نصیب