خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد ۱۰ 213 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء ہے۔مذہب کا کوئی ذکر ہی نہیں البر اور التَّقوی ہونا چاہئے۔ہر ا چھی بات پر تعاون کرو۔پس تعاون کے اصول کے اوپر ان قوموں کے ساتھ وسیع تر اتحاد پیدا کرنا اور اس کے نتیجے میں ایک نئی United nations of poor nation کا قیام انتہائی ضروری ہے اب ضرورت ہے کہ دنیا کی غریب قوموں کی ایک متوازی اقوام متحدہ کی بنیاد ڈالی جائے جس کے منشور میں محض اسی حد تک اختیارات درج ہوں جس حد تک ان کے نفاذ کی اس انجمن کو طاقت ہو اور ہر ممبر ملک کے لئے اس عہد نامہ پر دستخط کرنے ضروری ہوں کہ وہ اس ادارے سے منسلک رہتے ہوئے ہر حالت میں عدل کی بالا دستی کو تسلیم کرے گا۔تیسری دنیا کے الجھے ہوئے معاملات اور قضیوں کو حل کرنے کے لئے اسی ادارہ کی سر پرستی میں دو طرفہ گفت و شنید کا منصفانہ اور موثر نظام قائم کیا جائے اور کمزور قوموں میں اس رجحان کو تقویت دی جائے کہ کوئی فریق اپنے قضیوں کو حل کرنے کے لئے ترقی یافتہ قوموں کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور انہیں اپنے قضیے نبٹانے میں دخل کی اجازت نہیں دے گا۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ بعض تیل پیدا کرنے والے ملک بھی ایک نئی او پیک (Opec) کی بنیاد ڈالیں یعنی ایسی او پیک جس میں امریکہ کے وفادار غلاموں کو شامل نہ کیا جائے۔امریکہ سے تعاون کرنے والے بے شک شامل کئے جائیں کیونکہ ہمارا اصول یہ ہے ہی نہیں کہ مخالفت کی خاطر کوئی اتحاد قائم کئے جائیں۔قرآن نے کہیں اس کا ذکر نہیں فرمایا۔اتحاد نیکی پر ہونا چاہئے مگر کسی ملک کا اگر بڑی طاقتوں کے ساتھ بے اصولی پر اتحاد ہو چکا ہو اور ان کا یہ اتحاد قیام عدل کے لئے خطرہ بن جائے تو اس کے نتیجے میں غریب ممالک کے مفادات قربان کر دئیے جاتے ہیں پس لازم ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بعض ممالک اپنے دفاع کی خاطر نیا اتحاد کریں۔مثلاً ایران ہے، عراق ہے، نائیجیریا انڈونیشیا، ملائیشیا، سبا وغیرہ ہیں اسی طرح جن دوسرے ملکوں میں جہاں کسی حد تک تیل ملتا ہے وہ آپس میں اکٹھے ہوکر اپنی ایک او پیک بنائیں اور اگر یہ مشترکہ طور اپنی Policies طے کریں گے تو ان کے اوپر اس طرح ظلم کے ساتھ مغربی دنیا کی Policies کو مسلط نہیں کیا جا سکتا جس طرح عراق پر مسلط کر کے اسے غیر منصفانہ طرز عمل پر مجبور کر دیا گیا۔سعودی عرب اور کویت وغیرہ کچھ عرصے تک اپنی زیادہ تیل کی قوت کے نتیجے میں اس نئی او پیک کو کچھ مجبور پر