خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 211
خطبات طاہر جلد ۱۰ 211 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بیان فرمودہ اخلاق کو اور بیان فرمودہ تعلیم کو اپنا لائحہ عمل بنالیں گے اور انسانی قدروں کی حفاظت کریں گے اور کھوئی ہوئی قدروں کو دوبارہ نافذ کریں گے تو غیروں کی ذلت آمیز غلامی سے نجات کا صرف یہ طریق ہے اس کے سوا کوئی طریق نہیں ہے۔پس ایک اور بڑی اہم بات ہے کہ خلیج کی جنگ اور اس کے دوران ہونے والے واقعات نے تیسری قوموں کو ایک اور سبق بھی دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے یعنی جہاں تک تیسری دنیا کے مفادات کا تعلق ہے اقوام متحدہ کا نظام بالکل بوسیدہ اور ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے لائق بن چکا ہے جب تک روس کے ساتھ امریکہ کی مخالفت تھی یا رقابت تھی اس وقت تک اقوام متحدہ کے نظام میں غریب ملکوں کو تباہ کرنے کی ایسی صلاحیت موجود نہیں تھی کیونکہ امریکہ بھی ویٹو کر کے کسی غریب ملک کی حفاظت کر سکتا تھا اور روس بھی ویٹو کر کے کسی غریب ملک کی حفاظت کر سکتا تھا فیصلہ صرف اس بات پر ہوتا تھا کہ امریکہ کا دوست غریب ملک ہے یا روس کا دوست غریب ملک ہے۔اب تو ساری دنیا میں کسی غریب ملک کو سہارا دینے کے لئے کوئی باقی نہیں رہا۔اتفاق نیکی پر نہیں ہوا اتفاق بدی پر ہو چکا ہے۔پس قرآن کریم نے جب یہ فرمایا وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى تو اس کا مطلب صرف تعاون نہیں ہے، یہ مطلب ہے کہ صرف نیکی پر اکٹھے ہوا کرو۔بدی پر تعاون نہ کیا کرو۔لیکن سیاسی دنیا کے تعاون اس بات پر ہوتے ہیں کہ نیکی یا بدی کی بحث ہی نہیں ہے ہمارے مشترکہ مفاد میں جو بات ہوگی ہم اس پہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔پس یہ فیصلے ہیں جو دنیا میں ہو چکے ہیں۔روس اور امریکہ کے درمیان یہ فیصلے ہو چکے ہیں اور چین کو اس وقت ایسی حالت میں ایک طرف پھینکا گیا ہے۔کہ اس میں طاقت نہیں ہے کہ وہ دخل دے سکے اور ابھی اس کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کیا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔اگر یہ صورت حال اسی طرح جاری رہی تو اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا ادارہ اور اس سے منسلک تمام ادارے سیکیورٹی کونسل وغیرہ صرف کمزور ملکوں پر ظلم کے لئے استعمال کئے جائیں گے اور ان کے فائدے کے لئے استعمال ہو ہی نہیں سکتے صرف ان کے فائدے کے لئے استعمال ہوں گے جوان قوموں کی غلامی کو تسلیم کر لیں اور ان کے پاؤں چائیں ، ان کے لئے اقوام متحدہ کا ادارہ دولتیں بھی لائے گا، سہولتیں بھی پیدا کرے گا ان کو عزت