خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 205
خطبات طاہر جلد ۱۰ 205 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء شہریوں سے کوئی خطرہ لاحق ہو۔یا اپنی سیاست کو اپنے شہریوں سے خطرہ لاحق ہو۔پس یہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے باہر کی قو میں یعنی ترقی یافتہ قومیں ہمیشہ شور مچاتی ہیں کہ آمریت کا خاتمہ ہونا چاہئے مگر تیسری دنیا کو اپنا غلام بنانے کے لئے وہاں ان کو آمریت ہی موافق آتی ہے کیونکہ جہاں آمریت ہو وہاں اندرونی خطرات پیدا ہو جاتے ہیں اور اندرونی خطرات سے بچنے کے لئے بیرونی سہارے ڈھونڈ نے پڑتے ہیں اور بیرونی سہارے جس طرح میں نے بیان کیا اس طرح ملتے ہیں۔پھر جب تک مرضی کے مطابق کام کیا جائے اس وقت تک یہ بیرونی سہارے ساتھ دیتے ہیں ، جب مرضی کے خلاف بات کی جائے تو یہ سہارے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔یہ وہ لعنت ہے جس کا تیسری دنیا شکار ہے اور اب وقت ہے کہ ہوش سے کام لے۔اب جبکہ استعماریت کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور شدید خطرے لاحق ہیں۔اپنی قومی آزادی کی حفاظت کیلئے عزت نفس کی حفاظت کیلئے اور قوموں کی برادری میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے امکانات پیدا کرنے کی خاطر ضروری ہے کہ ان سب امور پر بڑا گہرا غور کیا جائے اور تیزی کے ساتھ اقدامات کئے جائیں۔خلاصہ یہ کہ امیر ملکوں سے موجودہ طرز پر امداد حاصل کرنے کے یہ نقصانات ہیں: اول :- امداد دینے والا ملک ، امداد لینے والے کو ذلیل اور رسوا کر کے امدا دیتا ہے اور متکبرانہ رویہ اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ اگر امداد لینے والا ملک آزادی ضمیر کے حق کو بھی استعمال کرے تو اسے امداد بند کر دیے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے جیسا کہ صدر بش نے حال ہی میں شاہ حسین اور اردن سے سلوک کیا۔دوم:۔امداد کے ساتھ String یعنی ایسی شرطیں منسلک کر دی جاتی ہیں جس سے قومی آزادی پر حرف آتا ہے۔سوم :۔امداد کے ساتھ سودی قرضے کا بھی ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اور بالعموم بہت بڑی بڑی اجرتیں پانے والے غیر ملکی ماہرین بھی اس کھاتے میں بھجوائے جاتے ہیں جو امداد کا ایک بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔اکثر افریقہ اور ایشیا میں یہ تلخ تجربہ بھی ہوا ہے کہ امداد کے نام پر پہلی Generation کی مشینری مہنگے داموں فروخت کر دی جاتی ہے اور اکثر ایسے کارخانے جدید ٹیکنالوجی والے کارخانوں کا