خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد ۱۰ 194 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء میں نے اس کے متعلق پہلے بھی کہا تھا کہ اور باتوں کے علاوہ دراصل یہ ویٹنام کی ذلت کا بھوت ہے جو احساس کمتری بن کر امریکہ پر سوار ہے اور کسی طرح اس بھوت کو وہ ہمیشہ کے لئے نکالنا چاہتے ہیں۔پس وہ رات ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک خاص بدمستی کی رات تھی جس میں عراقیوں کے خون کی شراب پی کر وہ ویتنام کاغم غلط کرنا چاہتے تھے۔میرا یہ تاثر اس طرح درست ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ کے بعد صدر بش نے جو تبصرہ کیا وہ بعینہ یہی تبصرہ ہے۔انہوں نے اعلان کیا:۔By God we have kicked the vietnam syndrome once and for all۔(Harrisburg patriot New, Mar۔2, 1991, U۔S۔A) کہ خدا کی قسم ! ہم نے ویٹنام کے احساس کمتری کو جو ایک اندرونی بیماری بن کر ہماری جان کو لگ چکا تھا ہمیشہ کے لئے ٹھڈے مار کر باہر نکال دیا ہے۔لیکن اصل واقعہ یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں ، اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک انتہائی ہولناک ظلموں کی داستان کا ھوا تھا جو دراصل ان کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور ویسی ہی ایک اور ظلموں کی داستان کا ھوا انہوں نے پیدا کر دیا ہے پس اب ایک ہوے کا مسئلہ نہیں۔اب دوھوؤں کا مسئلہ ہے دو بھوت ہیں جو ہمیشہ امریکہ پر سوار رہیں گے ایک ویٹنام کا بھوت اور ایک عراق پر ظلم و ستم کا بھوت۔ان کو یہ اس لئے دکھائی نہیں دے رہا کہ ان کے ہاں اس مسئلہ کا تجزیہ اس سے بالکل مختلف ہے جو تجز یہ دنیا کی نظر میں ہے۔دنیا ویٹنام کو اس طرح نہیں دیکھتی کہ وہاں 54 ہزار امریکن ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں واپس اپنے وطن پہنچائی گئیں۔دنیا ویٹام کے قصے کو اس طرح دیکھتی ہے کہ 25 لاکھ ویٹ نامی وہاں ہلاک ہوئے اور ہزار ہا شہر اور بستیاں خاک میں مل گئیں۔تو زاویے کی نظر سے مختلف صورتیں دکھائی دے رہی ہیں۔مختلف مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔پس جس ویٹنام سے وہ بھاگنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے خیال میں ایسے ویٹنام سے بھاگے جہاں 54 ہزار امریکن موت کے گھاٹ اتارے گئے۔اس کے مقابل پر عراق میں ان کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تاریخ اس نظر سے نہیں دیکھتی۔تاریخ نے ویٹنام کو ہمیشہ اس نظر سے دیکھا ہے اور ہمیشہ اسی نظر سے دیکھتی رہے گی کہ امریکن قوم نے اس جدید زمانے میں تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر نا حق ایک نہایت