خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد ۱۰ سمجھانا چاہتا ہوں کہ۔ 176 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء اول تو یہ کہ جب خود خدا کے بندے توحید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں کو اپنانے کی بجائے دشمنوں کے ناپاک اصولوں کو اپنا لیں تو خدا نہ ادھر رہتا ہے نہ ادھر رہتا ہے اور یہ حق و باطل کی جنگ نہیں رہتی ۔ دوسرے یہ کہ جہاں تک دنیا وی جنگوں کا تعلق بھی ہے اس شکست کے ساتھ وقت ٹھہر تو نہیں گیا۔ تاریخ تو جاری وساری ہے ابھی چند دن گزرے ہیں ۔ تاریخ اپنے رخ اولتی بدلتی رہتی ہے۔ وقت پلٹ جاتے ہیں اور آج کچھ ہے تو کل کچھ ہو جاتا ہے۔ بعض قوموں نے سینکڑوں سال تک جبر و استبداد کی حالت میں زندگی گزاری اور پھر خدا نے ان کو اپنے دشمنوں پر فتح عطا فرمائی ۔ پس خدا کے وقت کے مطابق سوچ پیدا کریں۔ اپنے وقت کے مطابق عجلت سے کام نہ لیں ۔ دنیا کی تاریخ ایک جاری و ساری سلسلہ ہے جو ہمیشہ ایک حال پر قائم نہیں رہا کرتا۔ آپ کے دل کی تسلی کے لئے میں آپ کو تاریخ میں کچھ پیچھے لے جاتا ہوں 1919 ء میں جو کچھ یورپ میں ہو رہا تھا اس کی یاد آپ کو دلاتا ہوں یہ وہ سال ہے جبکہ جیتی ہوئی اتحادی طاقتیں جرمنوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے ورسائے Versalles میں اکٹھی ہوئی تھیں وہ سال انگلستان کے الیکشن کا سال بھی تھا ۔ لائیڈ جارج وزیر اعظم نے یہاں سے روانہ ہونے سے پہلے یہ بیان دیا کہ میں جرمن نمبو Lamon کو اس سختی سے نچوڑوں گا کہ اس کے بیجوں سے چرچرانے کی آواز آئے اور ہائے ہائے کی صدائیں اٹھنے لگیں ۔ اس ارادے کے ساتھ یہ ورسائے کے لئے روانہ ہوئے ۔ مبصر لکھتا ہے کہ دور سائے پہنچ کر جب انہوں نے فرانسیسی نمائندوں کے انتظامی ارادوں پر اطلاع پائی تو وہ سمجھے کہ میرے ارادے تو ان مقابل پر بخشش اور حلم کا نمونہ تھے۔ فرانسیسی نمائندوں میں ایسی خوفناک انتقامی کارروائیوں کے جذبات تھے کہ گویا ہر جرمن کو ملیا میٹ کرنے کا فیصلہ تھا۔ بہر حال آپس میں افہام و تفہیم کے ذریعے کچھ ایسے فیصلے کئے گئے جن کے نتیجے میں اس بات کو لازمی بنا دیا گیا کہ آئندہ کبھی جرمن قوم کسی اور قوم کے کے خلاف ہتھیار نہ اٹھا سکے ۔ وہی تصویر ہے جو آج عراق کی صورت میں ان کے ارادوں کی شکل میں آپ کو دکھائی دیتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد اس بات کو مزید یقینی بنانے کے لئے 1928ء میں امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ اور فرانس کے وزیر اعظم نے مل کر ( سیکرٹری آف سٹیٹ