خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد ۱۰ 175 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء 1920ء کی بات ہے کہ انگریزوں کی یہ پالیسی تھی کہ کر دوں کو عراقیوں کا غلام بنا دیا جائے جب کردوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو 1920 ء میں سب سے پہلے برطانیہ کی حکومت نے نہتے اور کمزور کر دوں پر گیس کے بم برسائے اور نہایت دردناک طریق پر ہزار ہا کا قتل عام کیا۔اس کے بعد مسلسل انگریزوں نے کردوں کو عراق کا غلام بنانے کی خاطر سالہا سال تک ان غریبوں کے دیہات پر بمباری کی چنانچہ اس بمباری کا ایسا اثر اس زمانے کے ان لڑنے والوں پر بھی پڑا جن کے ذریعے بمباری کی جارہی تھی کہ ایک برطانوی امیر فورس کے بہت بڑے افسر نے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا (1922ء کی بات ہے ) کہ یہ ظلم میں برداشت نہیں کر سکتا ایسا خوفناک ظلم توڑا جا رہا ہے کر دوں پر کہ میری حد برداشت سے باہر ہے۔پھر یہ کہا جاتا ہے کہ ایران میں بھی صدر صدام نے انہی جرائم کا ارتکاب کیا اور کثرت کے ساتھ ایرانیوں کو گیس کا عذاب دے کر مارا اور ان کی شہری آبادیوں پر بمباری کی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس دور میں بھی گیس بنانے کے سامان مغرب نے ان کو مہیا کئے اور دور مار تو ہیں بھی مغرب نے مہیا کیں اور سب سے زیادہ مالی امداد کرنے والے سعودی عرب اور کویتی تھے اور امریکہ مسلسل ان کی حمایت میں کھڑا رہا ہے۔پس یہ درست ہے کہ صدام نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کئے ہیں وہ ان کے لئے جواب دہ ہے مگر یہ درست نہیں کہ صرف صدام ہی نے جو جرائم کئے ہیں اور بھی بہت سے جرم کرنے والے ہیں اور وہ اتحادی جو اس وقت پاک باز اور معصوم بنا کر پیش کئے جارہے ہیں ان کے اندر بڑے بڑے ظالم اور سفاک موجود ہیں جنہوں نے ہمیشہ جب ان کو ضرورت پیش آئی جرم کی حمایت کی اور سفا کی کا دل بڑھایا۔پس یہ جنگ سچ اور جھوٹ کی جنگ نہیں ہے۔مسلمان نوجوان خصوصیت سے سخت دل شکستہ ہیں اور جو اطلاعیں مجھے دنیا سے مل رہی ہیں بعض نوجوان بچوں اور عورتوں ، لڑکیوں وغیرہ کا یہ حال ہے کہ ان ظلموں کو دیکھ دیکھ کر جو عراق پر توڑے جارہے ہیں رو رو کر انہوں نے اپنی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔خودانگلستان میں ہی بعض بچے اور بعض بچیاں مجھے ملنے آئے۔درد کی شدت سے ان سے بات نہیں ہوتی تھی۔بات کرتے کرتے ہچکیاں بندھ گئیں کہ ہمیں بتائیں یہ کیا ہو رہا ہے۔کیوں ہمارا خدا ان کی مدد کو نہیں آرہا؟ ان کو میں