خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۱۰ 174 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہے بلکہ یہ شکست ان مسلمانوں کی ہے جنہوں نے اسلام کے اصولوں کو ترک کر کے شکست خوردہ اصولوں کو اپنا لیا۔پس یہ جنگ حق اور باطل کی جنگ نہیں رہی یہ طاقت اور کمزوری کی جنگ بن گئی۔نہ خدا اس طرف رہا نہ خدا اس طرف رہا اور جب طاقت اور کمزوری کی جنگ بن جائے تو طاقت لازماً جیتنی ہے اور اسی کا مطلب ہے "Might is Right"۔پس خلیج کی جنگ کے اس دردناک واقعہ میں ہمارے لئے بہت گہرے سبق ہیں اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ پائیدار اور ناقابل تسخیر اصولوں کی طرف لازماً لوٹنا ہوگا۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے حق میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوگا کہ ارض کے اوپر خدا کے پاک بندوں کی حکومت لکھی جاچکی ہے۔الارض یعنی فلسطین کی زمین ہو یا ساری دنیا مراد ہو جب تک عباد الصلحین پیدا نہیں ہوتے اور قرآن کریم کے پاکیزہ ہمیشہ زندہ رہنے والے، ہمیشہ غالب آنے والے اصولوں پر عمل نہیں کرتے اس وقت تک ان کے مقدر میں کوئی دنیاوی فتح بھی نہیں لکھی جائے گی۔پس مسلمانوں کے دلوں پر جو ظلم پر ظلم کی آری چلائی جارہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ گویا حق اتحادیوں کے ساتھ تھا اور حق کو جھوٹ اور باطل پر فتح ہوئی ہے یہ ہرگز درست نہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات آپ کے علم میں آنی چاہئے کہ ایک امریکن جرنیل بار بار یہ کہتے رہے کہ ہم سارے سفید ٹوپیوں والے ہیں اور عراق اور عراق کے ساتھی سارے کالی ٹوپیوں والے۔مغربی ناولوں کا ایک جاہلانہ تصور ہے کہ جو ان کے لڑا کا پستول کے اچھے ماہر ہوں وہ سفید ٹوپیاں پہنا کرتے ہیں اور جو بد معاش ان کے مقابل پر ہوں جن پر وہ غالب آتے ہوں وہ کالی ٹوپیاں پہنتے ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ یہ سفید اور کالے کی جنگ نہیں تھی۔اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے یہ کہا جاتا ہے که صدام حسین اتنا ظالم اور سفاک ہے کہ اس نے کردوں کو گیس کا عذاب دے کر مارا اور پھر کر دوں کے گاؤں کے گاؤں بمباری کے ذریعے ملیا میٹ کر دیئے۔اگر یہ بات درست ہے اور غالبا درست ہے تو ایک ایسا بھیانک جرم ہے جس کے لئے جو ظلم کرنے والا ہے وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوگا اور تاریخ کے سامنے بھی جواب دہ ہوگا۔مگر یہ ساری تصویر نہیں ہے دیکھنا یہ ہے کہ جرم صدام حسین کو کن قوموں نے سکھایا تھا اور کیسے سکھایا تھا۔