خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد ۱۰ 155 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء کھیتوں میں جو سانڈ چھوڑے جاتے ہیں وہ تو سبزیاں کھاتے ہیں ، یہ ایک ایسا سانڈ ہے جو خون پی کر پلتا ہے اور گوشت کھا کر بڑھتا ہے اور کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ایک ریزولیوشن کی باتیں آپ نے بہت سنی ہیں کہ عراق جب تک اس ریزولیوشن پر عمل نہ کرے ہم عراق کو مارتے چلے جائیں گے اور برباد کرتے چلے جائیں گے اور اس کو کویت سے نکالنے کے باوجود بھی اس وقت تک ہم اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ یہ امکان نہ مٹ جائے ، یہ احتمال ہمیشہ کے لئے نہ مٹ جائے کہ بیسیوں سال تک کبھی عراق کی سرزمین سے کوئی شخص سراٹھا سکے۔اس کے مقابل پر اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں جب بھی سیکیورٹی کونسلز میں ریزولیوشنز پیش ہوئے کہ ان کا رروائیوں کو روکا جائے یا ان کا رخ موڑا جائے تو ہمیشہ امریکہ نے ان ریزولیوشنز کو ویٹو کیا۔27 مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ سیکیورٹی کونسلز میں اسرائیل کو ظالم قرار دیتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا گیا کہ تم عرب علاقے خالی کرو اور ظلم سے ہاتھ کھینچو اور 27 مرتبہ United States کے نمائندے نے اس کو ویٹو کر دیا اور United States کی ویٹوا کثر صورتوں میں اکیلی تھی جب کہ دوسری ویٹو کی تاریخ کا میں نے مطالعہ کیا ہے اس میں اکثر صورتوں میں دوتین دوسرے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن باقی سب کے مقابل پر United States اکیلا اسرائیل کا حمایتی بن کران ریزولیوشنز کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرتا رہا۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ ریزولیوشنز کتنے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ اسرائیل کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیل کو متوجہ کیا گیا کہ تم ظلم سے باز آؤ تو ان کی تعداد بھی ۲۷ بنتی ہے جو پاس ہوئے اور ان میں سے اکثر میں امریکہ نے Abstain کیا ہے جن ریزولیوشنز کی زبان بہت زیادہ سخت تھی ان کو تو پاس ہی نہیں ہونے دیا جن میں مذمت ہی کی گئی تھی ، زبان بہت سخت نہیں تھی ان میں امریکہ الگ رہا اور ان کی تائید میں ووٹ نہیں ڈالا اور 242 جس کا ذکر آپ نے بہت سنا ہوا ہوگا وہ ریزولیوشن جس میں اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ 67ء کی ہتھیائی ہوئی اپنی زمینیں واپس کرو۔اس ریزولیوشن کو پاس کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایسی عبارت داخل کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کے حمایتیوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار آ گیا ہے کہ جس طرح چاہیں اس ریزولیوشن کا مطلب نکال لیں۔صرف وہ ایک ریزولیوشن ہے جس پر امریکہ نے اثبات کیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کیوں ہو رہا ہے عقل بھنا جاتی ہے