خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد ۱۰ 154 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء The only useful thing the plo could do, said the spokesman of the israel foreign ministry, was to disappear palestin no longer existed and therefore there was no point in it having a liberation movement۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فلسطین کے وجود کا معنی ہی کوئی نہیں یہ ختم ہو چکا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان کی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا کہ یہ جو یاسر عرفات نے ہمیں تسلیم کیا ہے اس کے جواب میں ہمارا رد عمل یہ ہے اور ہمارا فلسطینیوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ تحلیل ہو جائیں وہ ختم ہو جائیں، کالعدم ہو جائیں ، ان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ یہ وہ قوم ہے جس کے ظلم واستبداد سے آنکھیں بند کر کے کمزور مظلوم فلسیطینیوں کو مسلسل نہایت ظالمانہ پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان کی ساری زمینیں چھین لی گئی ہیں ، ان کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، ان پر آئے دن انتہائی ظالمانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ قتل عام کیا جاتا ہے ۔ بستیوں کی بستیاں منہدم کر دی جاتی ہیں اور وہ در بدر پھر رہے ہیں ان کا کوئی وطن نہیں رہا ۔ 40 لاکھ فلسطینی دنیا میں در بدر پھر رہا ہے اور ان کے وطن میں یہود کا پودا لگا کر اور اس کے پاؤں جما کر ان کی تعداد میں دن بدن اضافہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ ان ساری کوششوں کے باوجود آج بھی فلسطین میں کل 25 لاکھ یہودی ہیں اور ابھی تک 15 لاکھ فلسطینی وہاں موجود ہیں اور اس تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور آئندہ ان کے منصوبوں میں یہ بات داخل ہے کہ جب مغربی کنارے کو ہم یہودیوں سے بھر لیں گے تو پھر مزید جگہ کے مطالبے شروع کریں گے ۔ پس پہلے یہ مکان بڑھاتے ہیں پھر آبادی بڑھاتے ہیں پھر مکان بڑھاتے ہیں پھر آبادی بڑھاتے ہیں۔ یہ ان کا طریق ہے اور وہ فلسطینی جو اس سرزمین پر سینکڑوں سال سے قابض تھے۔ وہیں پیدا ہوئے ، وہیں کی مٹی میں پلے اور بنے ا اور بنے اور بڑے ہے رے ہوئے ان فلسطینیوں کو وہاں رہنے کا کوئی حق نہیں کہتے ہیں تمہارا کوئی ملک نہیں تمہارا کوئی وجود نہیں ہم تمہیں تسلیم نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ کس برتے پر کس خیال سے ، کس حکمت عملی کے نتیجے میں یہودیوں سے اپنے معاشقے کو قائم رکھے ہوئے ہے اور جس طرح ہمارے محاورے میں سانڈ چھوڑنا کہتے ہیں اس طرح عربوں کے کھیتوں میں ایک سانڈ چھوڑا ہوا ہے۔ عام