خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد ۱۰ رکھتی تھی۔153 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء بعض مبصرین نے بہت عمدہ تجزیہ کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ محض PLO کے قتل عام کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ فلسطین کی خودی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا منصوبہ تھا اور خود Dr۔Nanum Goldman جو ZIONISM کے بانی مبانی ہیں اور سالہا سال تک Janish Confres اور World Zoinist organization کے صدر رہے ہیں ، وہ لکھتے ہیں کہ :۔World The apparent aims is to liquidate, the palestinan people جو بھی ہمارے منصوبے تھے ان کا کھلا کھلا مقصد یہی تھا کہ فلسطینیوں کو تحلیل کر دیا جائے ان کو صفحہ ہستی سے نا پید کر دیا جائے۔فلسطین کے خلاف اور فلسطینیوں کے خلاف اس قوم نے جو ظالمانہ رویہ اختیار کئے رکھا ہے اس میں فلسطینی لیڈرشپ کی کردار کشی نے بھی بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔چنانچہ ایک مغربی مبصر لکھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ فلسطینیوں کی کردارکشی کرتے چلے جارہے ہیں یہاں تک کہ فلسطینیوں کو مخاطب بھی اس طرح کرتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ فلسطینی کا نام لیا گیا ہواور کوئی تحقیر کا اور تذلیل کا لفظ استعمال نہ کیا گیا ہو۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ یہ کہنے کی بجائے کہ فلسطینیوں نے ایسا کیا، کہتے ہیں Terrorists یہ کرتے ہیں۔Animals یہ کیا کرتے ہیں۔Bastards ایک گندی گالی ہے وہ یہ کیا کرتے ہیں اور بیروت میں عرفات کو ہٹلر کے Banker میں بیٹھا ہوا عرفات بیان کرتے ہی۔کچھ عرصہ پہلے تک یہ فلسطینیوں سے نفرت کی وجہ یہ بیان کیا کرتے تھے کہ فلسطینی ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم ان کے وجود کو کیوں تسلیم کریں ہم کس سے بات کریں ان سے بات کریں کہ جو کہتے ہیں کہ تمہیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔لمبے عرصے کی کوششوں اور نا کا میوں کے بعد آخر یاسر عرفات نے ان کا یہ عذر دور کرنے کی کوشش کی اور یونائیٹڈ نیشنز کے اس اجلاس میں جس میں یاسر عرفات کو بلایا گیا ، انہوں نے کھلم کھلا تمام قوموں کے سامنے یہ اقرار کیا کہ میں تمام فلسطینی آزادی کی تحریک کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔جب یہ اعلان کر دیا گیا تو اس کے چند دن کے بعد اسرائیل کی طرف سے اس کے جواب میں یہ اعلان ہوا۔