خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 152

خطبات طاہر جلد ۱۰ 152 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء ہے وہ منفی صورت میں ایک کے بدلے Trillions کی اعداد وشمار میں وعدہ خلافی کی جاتی ہے۔یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے ابھی بات سنئے جب انہوں نے لبنان پر 82ء میں حملہ کیا جس کا میں مختصراً ذکر کر چکا ہوں تو اس حملے سے پہلے انہوں نے اسی طرح یہ اعلان کیا کہ ہم لبنان کی ایک انچ زمین بھی قبضے میں نہیں لینا چاہتے اور جب لبنان پر قابض ہو کر انتہائی مظالم کر کے ایک لمبے عرصہ تک اور بھی ایسے مظالم کئے جن کا میں نے ذکر نہیں کیا ، آخر لبنان چھوڑا تو دریائے لتانی Litani River کے جنوب کا وہ سارا حصہ قبضے میں کر لیا جو شروع سے ہی اسرائیل کے منصوبے میں شامل تھا اور اس رقبے کا انچوں میں رقبہ 8 ٹریلین 830 بلین مربع انچ بنتا ہے۔تو جب وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک فٹ بھی نہیں لینا چاہتے۔تو مراد ہوتی ہے ہم 73 ٹریلین لینا چاہتے ہیں اور جب وہ کہتے ہیں۔ہم ایک انچ بھی نہیں لینا چاہتے تو مراد اس سے ہوتی ہے کہ 8 ٹریلین 830 بلین ( مربع انچ ) زمین ہم لینا چاہتے ہیں اس پر مجھے خیال آیا کہ ان کی تاریخ کا حساب لگا کر دیکھیں کہ جب تو رات میں یہ تعلیم نازل ہوتی تھی کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت تو اس وقت سے اب تک کتنا وقت گزر چکا ہے۔سیکنڈز میں کر کے دیکھیں تو پھر اندازہ ہوگا ان کی نفسیات کا کہ ہر سیکنڈ یہ اس انتقام کی کارروائی کے جذبے میں کتنا اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تو رات کی تعلیم کے نزول سے لے کر آج تک تقریباً جو میں نے اندازہ لگایا ہے سالوں کو سیکنڈز میں تبدیل کر کے۔6 ٹریلین 244 بلین 128 ملین سیکنڈ بنتے ہیں اب آپ اندازہ کریں کہ حضرت موسیٰ کے زمانے سے آج تک 6 ٹریلین 244 بلین اور 128 ملین سیکنڈ کا عرصہ گذرا ہے اس عرصہ میں ان کی وعدہ خلافیوں کی نسبت کتنی بڑھ چکی ہے ایک سیکنڈ کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ رفتار سے یہ جھوٹ بول رہے ہیں اور اسی نسبت سے ان کی انتقام کی تمنائیں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔لبنان کے اوپر ظلم و ستم کی جو بارش برسائی گئی اس کے متعلق صرف ایک اقتباس میں ایک مغربی مبصر کا آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہاں اس وقت کینیڈین ایمبیسڈر (Theodore Argand) تھے۔انہوں نے اس بمباری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس بمباری کو دیکھ کر 1944ء کی برلن کی بمباری یوں معلوم ہوتا تھا جیسا ایک Tea Party ہورہی ہو یعنی اگر بمباری یہ ہے تو برلن پر جو نہایت خوفناک بمباری 1944ء میں کی گئی تھی وہ اس کے مقابل پر ایک Tea Party کی حیثیت