خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۱۰ 150 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء کرتا ہے کہ یہ منصوبہ تیار تھا۔اس لئے بعد میں جو فرضی بہانے گھڑ رہے ہیں ان کی اس لحاظ سے بھی کوئی حقیقت نہیں کہ ان بہانوں کی جو تاریخیں ہیں ان سے بہت پہلے ثابت شدہ حقیقت ہے کہ یہ منصوبہ بنا چکے تھے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ 1982ء میں جبکہ بیروت پر بمباری شروع کی گئی تو وہ بمباری اتنی خوفناک تھی کہ دن رات ان کی تو ہیں بیروت سے باہر مسلسل ان پر گولے برسا رہی تھیں اور سمندر سے ان کے جہاز جن پر بہت ہی خوفناک تو ہیں تھیں ان تو پوں سے ان پر آگ برسا ر ہے تھے۔دن رات مسلسل مکانوں پر مکان منہدم ہوتے چلے جا رہے تھے اور لوگ مرتے چلے جارہے تھے اور کوئی شخص نہیں تھا کوئی آواز نہیں تھی دنیا میں جو مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اٹھتی ہو مغرب بھی خاموش تھا اور بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ خود عرب بھی خاموش تھے اور اس وقت تک اسرائیل کا اس قدر رعب پیدا ہو چکا تھا اور اس کے Terror سے اتنے خوف زدہ تھے کہ کسی عرب ملک نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی اور بمباری کے نتیجے میں چودہ ہزار آدمی وہاں مرے اور بیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے اور لاتعداد انسان بے گھر ہو گئے۔یہ 1982ء کی اس بمباری کا خلاصہ ہے بعض جو اخباروں نے شائع کیا ہے آپ نے شاید سنا ہوگا کہ جنگ عظیم کے آخر پر جب جرمنوں نے انگلینڈ پر اور حکیم پر 2-V راکٹ چھوڑے تھے اور اس کے ذریعے بمباری کی تھی تو اس دور کو اس جنگ کا سب سے زیادہ ہولناک اور دردناک دور بیان کیا جاتا ہے انگلستان کی طرف سے بار بار مختلف وقتوں میں مختلف سالوں میں ٹیلی ویژ نز پر اور دوسرے پروپیگنڈے کے ذریعہ 2-V کی اس بمباری کے تذکرے چلتے رہتے ہیں اور اسے بھولنے نہیں دیا جا تا لیکن آپ حیران ہوں گے کہ اس 2-Y کی بمباری کے نتیجے میں سارے انگلستان اور سارے جسم میں کل ساڑھے سات ہزار اموات ہوئی تھیں اور صرف بیروت میں اس بمباری کے نتیجے میں چودہ ہزار اموات ہو چکی تھیں۔یہ سارے Terror کے واقعات ہیں جو کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے اور کوئی مغربی طاقت ان کا نوٹس نہیں لیتی اور اسرائیل کے خلاف اس بارہ میں کوئی آواز بلند نہیں کرتی۔جہاں تک اسرائیل کے وعدوں کا تعلق ہے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم اسرائیل سے صلح کر لو تو