خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد ۱۰ 140 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء تاریخی سلسلہ چلا آ رہا ہے یہ کمزور قوموں کی طرح چھپ کر مخفی تدبیروں کے ذریعے بدلے لیتے ہوں گے ورنہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دو ہزار سال تک یہ اپنی تاریخ بھولے رہیں اور اپنا مزاج بالکل فطرت سے نوچ کر نکال دیں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ وہ تاریخ ہمارے پاس محفوظ نہیں کہ کیا کرتے تھے۔ یہ پتا ہے کچھ الزام ان پر ضرور لگتے تھے اور ان پر ظلم کیا جاتا تھا۔ پس وہ مظالم جوان پر کئے گئے ہیں وہ مغرب کو خوب یاد ہیں اور مغرب ان کے مزاج سے واقف ہے شیکسپئر کا Sherlock ان کے انتظامی جذبے کی ہمیشہ کے لئے ایک ادبی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ ایسے حالات میں ہو سکتا ہے کہ آغاز میں تو یہ خیال نہ آیا ہو لیکن رفتہ رفتہ ان کی سوچوں میں یہ بات داخل ہوگئی ہو کہ یہود کا خطرہ اپنے سے اسلام کی دنیا کی طرف کیوں نہ منتقل کر دیا جائے ۔ اور اس سے دو ہرا فائدہ حاصل ہوگا۔ ایک وقت میں دو دود دشمن مارے جائیں گے۔ ایک لطیفہ ، ہے تو بے ہودہ سا مگر اسی قسم کے مزاج کا لطیفہ ہے کہ ایک لڑکی کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کے تین دعویدار تھے ۔ تین خواہش مند تھے اس سے شادی کرنے کے ۔ ان میں ایک زیادہ ہوشیار تھا وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا اور وہ آپس میں خوب لڑتے مرتے تھے۔ تو کسی نے اس سے پوچھا تم تو بڑے ہوشیار ہو تم کوئی دلچسپی نہیں لے رہے اس نے کہا تم فکر نہ کرو۔ میں ایک کو دوسرے سے لڑا رہا نہ رہا اور تو ہوں اور نیت یہ ہے کہ وہ اس کو قتل کر دے تو میں مقتول کے حق میں اس کے خلاف گواہ بن جاؤں تو ایک قتل ہو گا دوسرا پھانسی چڑھے گا میدان میرے ہاتھ رہے گا۔ یہ لطیفہ ویسے تو لطیفہ ہی ہے لیکن عملی دنیا میں ایک بھیانک جرم کی صورت میں ہمارے سامنے ظاہر ہو رہا ہے، کھیلا جا رہا ہے۔ ہورہا رہا اور آخری سازش یہی ہے کہ یہود کو ہمیشہ کے لئے مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے ان کو دبانے کے لئے استعمال کرتے رہو اور یہود کا غصہ جو ہمارے خلاف ہے وہ مسلمانوں پر اتر تا رہے گا لیکن جیسا کہ میں آئندہ بیان کروں گا یہ بڑی سخت بے وقوفی ہے مغرب کی وہ دھوکے میں ہیں، وہ دھوکا کھائیں گے اور اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ ہم کیا غلطیاں کر بیٹھے ہیں ۔ جب یہود کلیہ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہوں گے۔ آئندہ میں بعض مشورے دوں گا مغربی طاقتوں کو ، اس صورت حال میں ، اس گندے گند سے نکلنے کے لئے جس میں مبتلا ہو بیٹھے ہیں اور واقعی دنیا میں قیام امن کے لئے کیا کرنا چاہئے ،اپنے اندر کیا