خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۱۰ 138 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء دنیا کی تاریخ میں قوموں کی ایسی مثال ملتی ہو جن کو ہزار سال سے زائد عرصے تک اس طرح بار بار مظالم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہو۔ اس ضمن میں میں چند امور آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ یہ جو صلیبی جنگیں 1095ء میں شروع ہوئیں یہ فرانس سے شروع ہوئیں اور فرانس کے ایک بڑے لارڈ (یہ مجھے یاد ہے کہ Bouillon ایک جگہ ہے فرانس میں ، Bouillon سے تعلق رکھنے والے وہ لارڈ تھے ) جنہوں نے آغاز کیا ہے اور جب انہوں نے اپنی مہم شروع کی اور فرانس کے دوسرے بادشاہوں نے مل کر پہلی Crusade کا انتظام کیا تو انہوں نے کہا کہ اتنے عظیم مقصد کے لئے کوئی صدقہ بھی تو دینا چاہئے۔ چنانچہ Godfrey of Bouillon کو یہ خیال آیا کہ سب سے اچھا صدقہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا انتقام لیا جائے اور تمام یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا جائے ۔ پس جس طرح کرتے ہوئے مسلمانوں میں قربانی کار کا رواج ہے کہ بڑی بڑی مصیبتوں پر یا امور مہمہ میں پیش قدمی کرتے۔ پہلے کچھ صدقے دیتے ہیں اسی طرح اس عظیم مہم پر جانے سے پہلے انہوں نے نہ صرف یہ سوچا بلکہ واقعہ فرانس میں اس طرح ظالمانہ قتل عام کروایا ہے یہود کا کہ اس طرح تاریخ میں کم ہی کسی نہتی قوم پر ایسا ظلم ہوا ہوگا اور یہ صلیبی جنگ کا صدقہ تھا۔ اس کے بعد سے یہ رواج بن گیا اور دوسوسہ سال تک کے صلیبی جنگوں کے عرصے میں ہر جنگ میں جانے سے پہلے یہود صدقہ کئے جاتے تھے۔ تو جہاں تک ظلم کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے۔ پھر رد بلاء کے طور پر بھی صدقہ دیا جاتا ہے اس میں بھی یہود کو ہی صدقہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے Black Death کا نام سنا ہوگا جو 1347ء سے 1352 ء تک یعنی چودھویں صدی کے وسط میں ) یورپ میں پھیلی تھی جو ایک نہایت ہی خوفناک طاعون کی وباتھی چین سے آئی اور رفتہ رفتہ مشرقی یورپ سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچی ۔اس وبا میں رد بلاء کے طور پر انہوں نے یہود کا صدقہ شروع کیا اور بہت سی جھوٹی کہانیاں بھی ان کے خلاف گھڑی گئیں کہ یہ ان کی نحوست ہے اور ساری بلاء جو ہم پر وارد ہو رہی ہے یہ یہود کی خباثت اور نحوست کی وجہ سے ہے اس لئے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اگر ہم نحوست کو تباہ کریں تو اس سے ہماری بلائیں ٹل جائیں گی۔ چنانچہ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہ ان گنت تعداد ہے بیان نہیں کی جاسکتی معین اعداد و شمار نہیں کہ کتنی تعداد میں یہود کو تل کیا گیا یا زندہ اپنے گھروں میں آگ میں جلایا گیا جو موٹے اعداد و شمار ہیں وہ