خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد ۱۰ 137 خطبه جمعه ۱۵/فروری ۱۹۹۱ء کا ہرا ہے اور وہ بھولے نہیں۔اور اس کا گہرا صدمہ ہے کہ اتنی بڑی یورپین طاقتیں مل مل کر بار بار حملے کرتی رہیں۔Richard the Lion Hearted بھی گیا اور دوسرے فرانس کے بڑے بڑے جابر بادشاہ بھی گئے۔جرمنی بھی شامل ہوا تحکیم بھی شریک ہوا لیکن انکی کچھ نہیں بنی ایک تو وہ زخم ہیں جن کے دکھ ابھی تازہ ہیں اور کچھ عثمانی سلطنت کے ہاتھوں جو ان کو بار بار زک اٹھانی پڑی اور یورپ کے بہت سے حصے پر وہ قابض رہے۔یہ جو حصہ ہے یہ بھی ان کے لئے ہمیشہ تکلیف کا موجب بنا رہا ہے اور بنار ہے گا۔بہر حال خلاصہ یہی ہے کہ ایک لمبا دور ہے ان کی صلیبی جنگوں کا اور سلطنت عثمانیہ کے عروج کا خصوصاً Solomon the Magnificent یعنی سلیمان اعظم کے زمانہ میں جس طرح بار باران یورپین طاقتوں کو زک پہنچی ہے اس کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہوئے کہ اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھیں۔اور ان کے نفسیاتی پس منظر میں ہمیشہ یہ بات پر دے کے پیچھے ہراتی رہتی ہے کہ جس طرح پہلے ایک دفعہ مسلمان ہماری جارحانہ کارروائیوں کو ( جارحانہ تو نہیں کہتے لیکن واقعہ یہی تھیں) بڑی شدت سے رد کرتے رہے ہیں آئندہ کبھی ان کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ اس طرح یہ اپنے مفادات کی ہمارے خلاف حفاظت کر سکیں۔ایک اور پس منظر بڑا دلچسپ اور گہرا اور بڑا دردناک ہے وہ یہ ہے کہ جب Theodor Herzl نے پہلی دفعہ یہود کی ریاست قائم کرنے کا یعنی اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تو اس نے جو وجہ پیش کی وہ یہ تھی کہ ہم پر ہزاروں سال سے ظلم ہورہے ہیں اور خاص طور پر یورپ میں جو مظالم ہورہے تھے اور فرانس میں اس سے پہلے ایک واقعہ ظلم کا ہوا تھا جب ایک یہودی کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔روفوس نام تھا غالبا اس کا اسی سلسلے میں ہر زل Herzl فرانس پہنچا آسٹریا سے اور اتنا گہرا اس پر اس ظلم کا اثر ہوا کہ اس نے یہ تحریک شروع کی۔تو وجہ یہ بیان کی گئی تھی فلسطین میں اسرائیل حکومت کے قیام کی کہ ہم پر یورپ میں مظالم ہوئے ہیں۔اس وقت کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ظلم کہیں ہورہے ہیں اور انتقام کسی اور سے لیا جارہا ہے یہ کیا حکمت ہے اور فلسطین میں جانے سے ان پر مظالم کا خاتمہ کس طرح ہو جائے گا، لیکن واقعہ یہ ہے اور اس بات میں یہودی یقیناً بچے ہیں کہ عیسائی مغربی دنیا نے یہود پر ایسے ایسے درد ناک اور ایسے ہولناک مظالم کئے ہیں کہ کم ہی