خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد ۱۰ 135 خطبه جمعه ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء پڑے گی لیکن اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آج ایک مہینہ گزر چکا ہے آج تک تو یہ عزم نہیں توڑ سکے اور جتنی صدام نے باتیں کی تھیں وہ سچی نکلتی رہی ہیں۔جو انہوں نے بدارا دے دکھائے تھے یا تکبر کی باتیں کی تھیں وہ سب جھوٹی نکلتی رہی ہیں۔مجھے یاد ہے صدر بش نے یا ان میں سے کسی ان کے ساتھی نے یہ کہا تھا کہ ویت نام کی کیا باتیں کرتے ہو۔اس کو ویت نام نہیں بننے دیا جائے گا۔"It will not be years, it will not be months, it will not be weeks, it will be days۔" کہ یہ جنگ سالوں جاری نہیں رہے گی مہینوں جاری نہیں رہے گی، ہفتے جاری نہیں رہے گی ، دنوں کی بات ہے اور اس کے بعد ہم نے صدر بش کو یہ کہتے ہوئے سنا۔It will not be Days it will be weeks running in to months۔" تو آج کا دن وہ ہے جس کے بعد Runing in to months والی بات ہو جائے گی لیکن اس اگلی بات نے پہلی بات کو جھٹلایا ہے اور صدر صدام جو باتیں کہتے رہے انہوں نے شروع میں یہ کہا تھا کہ شروع میں تمہارا پلہ غالب ہو گا تم جو مرضی کرو، جتنا مرضی بم برسالینا ہم پر ، آخر پر جب ہم اٹھیں گے تو پھر ہم اپنا انتقام لیں گے اب اس موڑ پر پہنچ کر یہ انتقام سے ڈرے بیٹھے ہیں، کیونکہ سارا عراق بھی نعوذ باللہ ہلاک ہو جائے تو American Public opinion پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لیکن ہزار لاشیں وہاں سے امریکہ پہنچیں گی تو American Public opinion جو ہے وہ ڈانواں ڈول ہوگی اور اس پہ زلزلہ طاری ہو جائے گا۔پس اس لئے یہ امن کی کوششیں ہیں اور اس پہلو سے صدر صدام نے جو حکمت عملی استعمال کی ہے بڑی عمدہ اور غالب حکمت عملی ہے۔دعا کرتے رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر جھوٹے خدا نافذ نہ ہونے دے۔دنیا میں سب سے بڑا دکھ تو حید کے زخم لگنے کا دکھ ہے۔اگر اسی طرح جھوٹے خداؤں کو خدائی کی اجازت ملتی رہی تو خدائے واحد کی عبادت کرنے والے کون آئیں گے اور کہاں رہیں گے اس دنیا میں تو پھر نہیں رہ سکتے پس سب سے بڑا خطرہ تو حید کو ہے، خانہ کعبہ کو ہے۔خانہ کعبہ کی عظمت کو