خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 134

خطبات طاہر جلد ۱۰ 134 خطبہ جمعہ ۱۵/فروری ۱۹۹۱ء کو ذلیل کیا جاسکتا ہے اور انسانوں کی خاطر اپنے مفادات کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔پس یہ ذمہ داری اور ارتکاب جرم میں پورے شریک ہیں۔اگر آج حساب نہیں لیا جائے گا تو کل لازماً ان کا حساب لیا جائے گا۔جو فوائد یا نقصانات ہوئے ہیں۔نقصانات تو میں نے بیان کر دیئے ہیں لیکن کچھ اور بھی نقصانات ہیں اور فوائد بھی ہیں بعض عراق کو تو یہ فائدہ پہنچا ہے کہ اس نے ایک بڑی طاقت کا تکبر تو ڑا ہے۔اور جنگ میں جانے کی وجوہات میں ایک یہ بھی وجہ بیان کی جاتی ہے بعض قابل مبصرین کی طرف سے کہ دراصل صدر بش اور امریکہ کو ویت نام کمپلیکس کھا گیا ہے۔ویت نام میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ گزر چکا تھا۔ویت نام میں امریکنوں نے اتنی بمباری کی ہے کہ عراق سے پہلے کہیں اتنی خوفناک بمباری نہیں ہوئی تھی اور دیہات کے دیہات صاف کر دئیے۔اس قدر زندگی تلف کی ہے اس قدر اقتصادیات کو برباد کیا گیا ہے کہ یک طرفہ ایسا ظلم انسانی تاریخ میں کم دکھائی دیتا ہے کہ پورے بڑے وسیع ملک پہ ہورہا ہو لیکن اس کے باوجود اس قوم کی عظمت کردار کو تو ڑ نہیں سکے۔ان کا سر نہیں جھکا سکے۔وہ قوم مرتی چلی گئی ہے اور لڑتی چلی گئی ہے لیکن امریکہ کی خدائی کے سامنے اس نے سجدہ نہیں کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر ان کا عزم ٹوٹا ہے۔ان کا تکبر ٹوٹا اور اپنا مقصد حاصل کئے بغیر ان کو ویت نام خالی کرنا پڑا۔وہ جو ویت نام کی باتیں آپ سنتے ہیں ان میں بعض دفعہ اکثر لوگوں کو غلط نہی ہوتی ہے کہ شاید American Public Opinion رائے عامہ انسانی ہمدردی کی وجہ سے اپنی حکومت کے پیچھے پڑی ہے کہ اتنی جانیں تم نے وہاں تلف کر دیں اب دوبارہ نہ کرنا ، ہرگز یہ بات نہیں ہے۔ویت نام میں ایک کروڑ آدمی مر جائیں امریکن پبلک او پینٹن Opinion کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔اتنی بھی نہیں ہوگی جتنی مرغابیاں مرنے سے ان کو ہوتی ہے لیکن امریکن جانوں کی تلفی اور امریکن تکبر کو چیلنج کرنا یہ ان کے لئے ایک ایسا روحانی عذاب بنا ہوا ہے جو یہ ہضم نہیں کر سکتے تھے۔پس اس جنگ کی وجوہات میں یہ نفسیاتی پس منظر بھی ہے۔امریکہ کو جو اپنا تکبر کچلا ہوا دکھائی دیتا رہا ہے آج تک یہ ان کا زخم ہرا ہے۔آج تک یہ جلن سینے میں لئے پھرتے ہیں۔تو ویت نام کا انتقام عراق سے لینا چاہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ہم عزم توڑ دیں گے اور پھر ہمیں ٹھنڈ