خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد ۱۰ 132 خطبه جمعه ۱۵ / فروری ۱۹۹۱ء کیونکہ یہ سب دجل ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لفظ دجال میں اسی زمانے کی ساری تاریخ اپنی تمام تفاصیل سے بیان فرما دی۔ایسا خوفناک دجل ہے کہ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہ سالہا سال سے افریقہ بھوک کا شکار ہے اور لکھوکھہا کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے ،عورتیں ، بوڑھے مرد، جوان ،سب پنجر بن بن کر دکھ اٹھا اٹھا کر مرتے چلے جارہے ہیں اور ان کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔اب جنگی اخراجات کا آپ نے اندازہ سن لیا ہے۔ساڑھے پانچ سو اس کی تعمیر نو پر خرچ اور اس سے پہلے سو بلین کے قریب دوسرے اخراجات اور 200 بلین دنیا کے نقصانات، تو یہ ساری بات مل کر بالآخر ہزار بلین کا نسخہ ہے اس کے مقابل پر آج چھپیس ملین افریقن بھوک کے نتیجے میں مرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔اور یہ یونائیٹڈ نیشنز کا تخمینہ ہے۔اگر ایک افریقن کو خوراک مہیا کرنے پر روزانہ دو ڈالرخرچ آئیں تو بچیں ملین افریقن کو ایک سال کے لئے بھوک سے بچانے کے لئے صرف تقریباً ڈیڑھ بلین ڈالر چاہیئے ایک بلین چھیاسٹھ لاکھ کچھ چاہئے۔تو آپ اندازہ کریں کہ وہ لوگ جو چھپیں ملین انسانوں پر رحم نہیں کھاتے جو عراق کے سولہ ملین انسانوں پر دولت کے پہاڑ خرچ کر کے موت برسا رہے ہیں۔ان کو ہمدردی ہے تو دو مرغابیوں سے ہے اور شور مچایا ہوا ہے کہ یہ چند مرغابیاں مر جائیں گی۔محض جھوٹ ، محض فساد انسانی ہمدردی کا کوئی شائبہ بھی ان کے اندر ہوتا تو پہلے انسانی جانوں کی قدر کرتے۔دنیا میں بھوک سے مرنے والے غریب افریقنوں کی اور دیگر قوموں کی فکر کرتے۔اور اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے کی کوشش کرتے اس سے آپ کو پتہ لگے گا کہ ایک بلین ہوتا کیا ہے۔پچپیس ملین کا مطلب ہے اڑھائی کروڑ۔اڑھائی کروڑ انسان پورا ایک سال عزت کے ساتھ روٹی کھا سکتا ہے تقریباً ڈیڑھ بلین میں اور یہ ایک بلین روزانہ جو یہ موت برسانے پر خرچ کر رہے ہیں اور ایک بلین نو مہینے زندگی بخشنے کے لئے خرچ کر سکتے اور وہ بھی چھپیس ملین آدمیوں کی زندگی۔مجھے اس پر یاد آ گیا وہ قصہ۔ایک دفعہ چرچل نے جارج لائیڈ کے پاس ایڈورڈ گرے کی سفارش کرتے ہوئے ان کی تائید میں کہا کہ آپ ان کی پوری بات نہیں سمجھ رہے۔ان کا کوئی قصور تھا وہ ناراض تھے بڑے سخت گرم تھے ان کے خلاف تو چرچل نے کہا کہ دیکھیں وہ ایسا انسان ہے ایڈورڈ گرے کہ اگر کوئی Natsi اس کے پاس آئے اور سمجھے کہ تم اگر اس پر دستخط کر دو جو میں تجویز پیش کرتا