خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 9
خطبات طاہر جلد ۱۰ 9 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء فرماتا ہے کہ تم سے پہلے ایسی قو میں گزری ہیں یعنی یہو جن کا دین بالآخر ایسے ہو گیا تھا جیسے گدھوں پر کتابیں لا دی گئی ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا کہ جن کے علماء کا یہ حال تھا کہ جیسے گدھوں پر کتابیں لا دی گئی ہوں اور اس سے وہ صحیح استفادہ نہ کر سکتے ہوں۔اس تمثیل میں بہت ہی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں اور پہلی بار اس کی گہرائی کا علم مجھے اسی زمانے میں ہوا جب میں وقف جدید کے سلسلہ میں علاقوں کے جائزے لے رہا تھا اور دیہاتی جماعتوں کے حالات کو اعدادوشمار کی صورت میں دیکھ رہا تھا، اس وقت پتا چلا کہ تو میں جب دین سے بے بہرہ ہونے لگتی ہیں تو ایسے علماء کے سپر د دین کا بوجھ کر دیتی ہیں جن کی اپنی حالت گدھوں کی طرح ہوتی ہے اور یہ بہت ہی حسین مثال ہے۔انسان گدھے کی پیٹھ پر وہی بوجھ لا دتا ہے جو اُس کو اٹھانا مصیبت لگتا ہے اور محض اٹھانے سے اُس کو کوئی لذت محسوس نہیں ہو رہی ہوتی اور فائدہ نہیں ہوتا۔اب کتابیں تو پڑھنے سے فائدہ دیتی ہیں اور پڑھنے سے ہی لذت دیتی ہیں صرف کتابیں اٹھائے پھرنے کا تو کوئی مزہ نہیں۔تو جب دین کی باتیں ایسی ہو جائیں کہ وہ بوجھ ہی بن جائیں نہ ان کا ذاتی علم رہے، نہ ان کے پڑھنے کا شوق رہے تو انسان جس طرح کتابوں کا ایک انبار گدھے کی پیٹھ پر لاد دیتا ہے اس طرح تو میں اپنی دینی ذمہ داریاں ان علماء کی پیٹھ پر لاد دیتی ہیں جن کی اپنی حالت اس زمانے تک گدھے جیسی ہی ہو چکی ہوتی ہے یعنی کتابوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجو دان کے علم سے بے بہر ہ اور ان کی معرفت سے عاری ہوتے ہیں۔تو قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ یہود پر ایسا ہی ایک وقت آیا تھا کہ جب قوم نے اپنے دین کو بوجھ سمجھ لیا تھا اور بوجھ سمجھ کے انہوں نے بوجھ اٹھانے والے مزدور ڈھونڈے اور کثرت سے ایسے علماء موجود تھے جنہوں نے اس بوجھ کو اٹھا لیا لیکن دینی لحاظ سے ان کے راہنما بھی وہ گدھے بن گئے اور جب گدھے قوم کے راہنما بن جائیں تو اس قوم کا ہلاک ہو جانا ایک منطقی نتیجہ ہے۔پس قرآن کریم نے یہ بہت ہی گہری مثال بیان فرمائی اور ہمیں نصیحت فرمائی کہ دیکھو پہلے ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے جبکہ ایک مذہبی قوم دین کے علم میں دلچپسی چھوڑنے کے نتیجے میں اس علم کو بوجھ سمجھنے