خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد ۱۰ 124 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء کارروائیاں مگر جب مخفی کا رروائی ظاہر ہو جائے تو یہ ایک بہت بڑا جرم بن جاتا ہے اس لئے یہاں یہ جرم بن چکا ہے اور امریکہ لازماً اس میں سب سے بڑا ذ مہ دار ہے۔تیسری بات اقوام متحدہ کے نام پر یہ کارروائی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ملک خریدے گئے ہیں۔بہت سے ملکوں پر سیاسی دباؤ ڈالا گیا ہے۔بہت سے ممالک کو آئندہ کی لالچیں دی گئی ہیں اور ہے یہ سارا امریکن کھیل۔اس بارہ میں صدر صدام ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ اس کا نام یونائیٹڈ نیشنز رکھنا تمسخر ہے یونائیٹڈ نیشنز کے ساتھ۔عملاً اقوام متحدہ نہیں ہے بلکہ امریکہ ہے۔لیکن حال ہی میں جو واقعہ ہوا ہے وہ یہ کہ یونائیٹڈ نیشنز کے سیکرٹری جنرل جب گفت وشنید کے لئے صدام حسین کے پاس گئے تو انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ تو ساری کارروائی دنیا کو دھوکا دینے کے لئے امریکن کارروائی ہے۔اس کا نام یونائیٹڈ نیشنز رکھنا ہی غلط ہے تو ڈی کو ئیار نے کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں بالکل یہی ہوا ہے۔لیکن جہاں تک رسمی پوزیشن لینے کا تعلق ہے میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ میں اس کا اقرار کرسکوں ، اس بیان کو امریکہ نے چھپانے کی کوشش کی کیونکہ جب انہوں نے واپس جا کے رپورٹ پیش کی تو اس رپورٹ میں یہ اور ایسی اور باتیں بعض اعترافات شامل تھے ، لیکن صدر صدام حسین نے اس کو Publicize کر دیا ہے، کھول دیا ہے۔اور انگلستان کے بعض اخباروں میں چھپ چکی ہے جو میں نے پڑھی ہے۔تو اول ذمہ داری اس جنگ کی امریکہ پر عائد ہوتی ہے اگر چہ صدام کو استعمال کیا گیا ہے اور صدام کی جہاں تک ذمہ داری ہے اس میں بعض ایسی وجوہات ہیں جن کے پیش نظر ہم اسے کسی حد تک مجبور بھی قرار دے سکتے ہیں۔اتحادیوں کی ذمہ داری ظاہر ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ اتحادیوں نے اپنے مقاصد کی خاطر یہ کام کیا ہے اور تمام اتحادیوں کے کچھ ذاتی مقاصد اور منفعتیں تھیں جو اس کے ساتھ وابستہ تھیں۔اسرائیل کی ذمہ داری یہ ہے کہ سارا منصو بہ اسرائیل کا ہے جیسا کہ میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں اور اسرائیل کی اس سے بڑی چال دنیا میں ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ ایک بڑھتی ہوئی مسلمان طاقت کو جو اس کے لئے حقیقی خطرہ بن سکتی تھی لڑائی کے دوران اس طرح برباد کرا دے کہ روپیہ مسلمان حکومتوں کا استعمال ہو یا بعض اور اتحادیوں کا اور سپاہی امریکنوں اور انگریزوں کے