خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد ۱۰ 8 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء پس اسی پہلو سے میں گزشتہ کچھ عرصے سے خطبات دے رہا ہوں کہ جب نمازیں پڑھتے ہیں تو زندگی حاصل کرنے کے لئے پڑھیں اور اس کے لئے نماز کا ترجمہ آنا ضروری ہے اس کے مطالب کا سمجھنا ضروری ہے اور مختلف پہلوؤں سے نماز کی دنیا کی سیر کرنی ضروری ہے۔ایک بہت بڑا جہان ہے جو روزانہ آپ پر کھلتا ہے جہاں آپ کو لے جایا جاتا ہے اور سیر کرنے کے مواقع دیئے جاتے ہیں اور بار بار یہ مواقع میسر آتے ہیں۔بہر حال یہ وہ مصالح ہیں جن کے پیش نظر اس وقت ہم نے یہ جائزہ لیا کہ وقف جدید کے معلم کن دیہات میں پہلے کام کریں اور یہ جائزہ لینے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں سب سے زیادہ لوگ نماز کے معنی سے غافل ہونگے ، دیگر روزمرہ کے مسائل سے ناواقف ہوں گے وہاں وقف جدید کے معلمین کو پہلے بھیجا جائے گا تو اُس قت جب سارے ملک کا جائزہ لیا گیا تو بغیر کسی ارادے کے، مجھے پہلے یہ علم نہیں تھا کہ یہ حالات ظاہر ہوں گے، بغیر کسی ارادے کے مزید جستجو کا موقع ملا تو ایسی ایسی باتیں دریافت ہوئیں کہ جن سے توجہ اس طرف منتقل ہوئی کہ دیہات کے علاقے بعض پہلوؤں سے اخلاص میں بہت بہتر ہوتے ہیں لیکن بعض پہلوؤں سے دین کے علم میں اتنا پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ آئندہ زمانوں میں نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔آپ کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے ایک نسل آپ کے ہاتھ سے نکلتی چلی جا رہی ہے اور آپ کو پتا نہیں لگ رہا یہاں تک کہ دین کے علم سے بے بہرہ خالی اخلاص اندھی تقلید پیدا کیا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر ملائیت ابھرتی ہے اور گدھوں کی طرح جس طرف چاہیں ایسے لوگوں کو ہانک کر لے جائیں جو چاہیں ان کا دین بنا کر ان کو بتا دیں کہ یہ تمہارا دین ہے جو مسلک آپ کا ہو آپ ان کے ذمے لگا دیں کہ یہی تمہارا مسلک ہے۔بغیر سوال کئے بغیر سوچے، بغیر کسی فکر اور تدبر کے یہ آنکھیں بند کر کے پیچھے لگ جانے والے لوگ بن جاتے ہیں تو اس پہلو سے جب میں نے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا تو وقف جدید کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے مجھے اسلامی تاریخ کے ایک پہلو سے اس المیہ کو سمجھنے کا موقعہ ملا اور قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو سمجھنے کا موقعہ ملا جس میں اللہ تعالیٰ