خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 112
خطبات طاہر جلد ۱۰ 112 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء کے اوپر حملے کا بہانہ بنایا جائے گا اور یہودی حکومت کو دریا کے اس کنارے پر ہی نہیں دوسرے کنارے کی طرف بھی ممتد کر دیا جائے گا۔یہ جو میرا اندازہ ہے اس کے پیچھے بہت سے تاریخی رجحانات ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں شروع دن سے آج تک یہودی مسلسل وسعت پذیر ہیں یعنی توسیع پسندی کی پالیسی محض تعداد بڑھانے کے لحاظ سے نہیں بلکہ رقبہ بڑھانے کے لحاظ سے بھی ہے اور جو آغاز میں یہود نے اسرائیل کا خواب دیکھا تھا وہ خواب یہ تھا کہ تمام دنیا کے مظلوم علاقوں سے یہود کو اکٹھا کر کے یہود کی ایک آزاد مملکت میں جمع کر دیا جائے۔اس وقت آبادی کی نسبت یہ ہے کہ یعنی تفصیل تو میں نہیں بتاؤں گا دو تین ملکوں کی آبادی بتا تا ہوں۔اسرائیل میں اس وقت یہودی چھپیس لاکھ ہیں اس کے علاوہ امریکہ میں پچاس لاکھ یہودی ہے اور روس میں چھپیں لاکھ بیان کئے جاتے ہیں اس وقت روسی یہودیوں کو بلا کر اسرائیل میں آباد کرنے کا پروگرام شروع ہے جس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے تک پچیس لاکھ مزید یہودی یعنی موجودہ تعداد سے دگنے اس ملک میں آباد کئے جائیں گے۔اس کے لئے زمین بھی پھر اور چاہئے۔یہ ظاہری اور طبعی بات ہے تو جتنی زمین اس وقت ان کے پاس ہے اس سے کافی تعداد میں زیادہ زمین ہوتب جا کر یہ خواب پورا ہوسکتا ہے۔پھر امریکہ کے یہودیوں کے انتقال کا پروگرام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے اور یورپ کے دوسرے یہودیوں کے انتقال کا پروگرام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔اس ضمن میں بعض باتیں میں آئندہ خطبے میں آپ کے سامنے رکھوں گا گر مختصر یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے قیام کے مقاصد کی اولین وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ مغربی ملکوں میں یہود محفوظ نہیں ہیں اور انہوں نے ہمیشہ یہود کو یک طرفہ ظلم کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔اگر یہی مقصد تھا اسرائیل کے قیام کا تو جتنے مغربی ممالک میں یہود ہیں جن تک ان کے لئے فلسطین کے گرد و پیش جگہ نہ بنائی جائے اس وقت تک یہ خواب پورا نہیں ہوتا۔اور موجودہ رجحان یہی بتا رہا ہے کہ اس طرح یہ آگے بڑھ رہے ہیں۔تو صدر بش کے خواب میں غالباً انذاری پہلو یہ بھی داخل ہے کہ شرق اردن کے دوسرے حصے پر بھی قبضہ کر لیا جائے اور بعد میں یہ خواب کس طرح آگے بڑھے گا اور دنیا کو کس حد تک اپنی لپیٹ میں لے گا وہ لمبی باتیں ہیں مختصر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد باریوں کی بات ہے۔