خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 111

خطبات طاہر جلد ۱۰ 111 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء انتقامی کارروائی سے باز آجائے؟ نہیں۔بار بار اس کو یقین دلایا گیا ہے کہ یہ صرف وقتی طور پر انتقامی کارروائی ٹالنے کی خاطر کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد تمہیں حق حاصل ہے کہ جب چاہو، جس طرح چا ہو، جس زمانے میں چاہو تم اس جارحیت کا بدلہ لو۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اسرائیل کا یہ حق تسلیم کیا جاچکا ہے کہ وہ جارحانہ کارروائیاں کرے اور کوئی ملک اس کے خلاف مدافعانہ کارروائی بھی نہ کرے اور اگر وہ مدافعانہ کارروائی کرے گا تو اس کے ساری دنیا کی طاقتیں جارحانہ کارروائی بھی کریں گی اور اسرائیل کا جارحانہ کارروائی کا حق باقی رہے گا اور وہ کب اور کس طرح پورا ہوتا ہے یہ ابھی دیکھنے والی بات ہے۔تو یہ ہے نیوورلڈ آرڈر (New World Order) جس کا خواب صدر بش نے دیکھا ہے اور جس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے دنیا میں ہمیشہ کے لئے امن کی ضمانت ہو جائے گی۔اس خواب کے کچھ اور حصے بھی ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اسرائیل تو کسی قیمت پر بھی مغربی علاقہ خالی نہیں کرے گا لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ مشرقی علاقے پر قبضہ کرنے کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔مجبوری کے تحت شاہ حسین ہیں جو نیوٹرل رہے اور انہوں نے صرف یہ قصور کیا ہے کہ دو تین دن پہلے اپنی پریس کانفرنس میں یا تقریر میں اس بات پر سخت اظہار افسوس کیا ہے کہ اتحادیوں نے معصوم عراقی شہریوں کو تباہ و برباد کیا اور بڑا بھاری ظلم کیا۔ان کا یہ تبصرہ خود مغربی اتحادیوں کے اعلانات کے نتیجے میں ہے جو انہوں نے فوجی حالات کے متعلق خود خبر نامے جاری کئے ہیں ان سے یہ تصویر قائم ہوتی ہے یعنی اگر ہر ایک منٹ پر ایک جہاز بمباری کرنے کیلئے اٹھ رہا ہو اور یہ تسلیم کرتے ہوں کہ عراق میں اتنی بمباری کی جاچکی ہے جو آج تک دنیا کی تاریخ میں کسی جنگ میں اس طرح نہیں کی گئی اور ویت نام اس کے مقابل پر کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتا۔اس کے بعد یہ کسی ملک کا نتیجہ نکالنا کہ لاکھوں Civilions یعنی شہری اس سے متاثر ہوئے ہونگے یہ صدر بش کے نزدیک امریکہ کی بھی ہتک ہے اور اسرائیل کی بھی گستاخی ہے اور وہ ان کو متنبہ کرتے ہیں شاہ حسین کو کہ خبر دار منہ سنبھال کر بات کر وہ تمہیں پتا نہیں کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تمہیں کس نے حق دیا ہے اس قسم کی تنقید کرنے کا ؟ خواب کے مندز پہلو بھی تو ہوتے ہیں۔کچھ تو انہوں نے امن کے خواب کی تعبیر موت دیکھی ہوئی ہے۔کچھ خواب کے اندازی پہلو بھی ہیں اور انذاری پہلو میں میرے نزدیک یہ بات داخل ہے کہ شرق اردن