خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد ۱۰ 110 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اسرائیلی اس علاقے کو خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہونگے۔اور اب تک جو اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات ظاہر ہوئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ صدر بش کی مجال نہیں ہے کہ اسرائیل کو ناراض کرنے کی جرات کریں۔جب اسرائیل پر سکڈ ز کا حملہ ہوا تو صدر بش نے بار بار اسرائیل کے پریذیڈنٹ کو فون کئے اور منت سماجت کی اور اپنے چوٹی کے صاحب اختیار نمائندے وہاں بھجوائے اس بات پر اسرائیل کو آمادہ کرنے کے لئے کہ فوری طور پر اپنا انتقام نہ لو اس واقعہ سے ان کے تعلقات کی نوعیت سب دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے۔چند سکڈز کے نتیجے میں دو بوڑھی عورتیں مری ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ دو تین سو سے زیادہ لوگ زخمی نہیں ہوئے اس کو نہایت ہی ہولناک، یک طرفہ جارحانہ کارروائی قرار دیا گیا جبکہ اس سے پہلے اسرائیل نے عراق کے ایٹمی توانائی کے پلانٹ کو بغیر کسی نوٹس کے اپنے ہوائی جہازوں کے ذریعے بمبارڈ Bombard کر کے کلیۂ برباد کر دیا اوراس حملے کو کسی نے جارحانہ حملہ قرار نہیں دیا۔گویا اسرائیل کو تو یہ حق ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ تم جارحانہ کارروائی کرو اور دوسروں کے ملکوں میں جا کے بمباری کرو، نہ یونائیٹڈ نیشنز کو اعتراض کا اختیار ہے نہ کسی اور ملک کو اور جس پر بمباری کی جاتی ہے اس کو جوابی کاروائی کا بھی اختیار نہیں۔پس اگر اور کچھ نہیں تو سکڈ میزائل کے حملے کو عراق کی جوابی کارروائی قرار دیا جا سکتا ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات بھی اب تسلیم کر لی گئی ہے کہ جوابی کارروائی کا فوراً ہونا ضروری نہیں۔چنانچہ اس مسئلے پر ذرا تھوڑا سا اور غور کریں تو اسرائیل اور امریکن تعلقات خوب کھل کر نظر کے سامنے آجاتے ہیں۔صدر بش نے بار بار فون پر رابطے کئے منتیں کیں بڑے نرم لہجے میں درخواستیں کیں کہ کوئی فوری کارروائی اس کے رد عمل کے نتیجے میں نہ کرنا۔بعد میں اپنے نمائندہ بھیجے جن کے ذریعے گفت و شنید ہوئی اور آخری نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تم کوئی فوری کاروائی نہ کرو تو ہم تمہاری طرف سے زیادہ سے زیادہ انتقام لینے کی کوشش کریں گے اور جو سویلنز Civilians پر بمباریاں ہوئی ہیں اور لاکھوں معصوم شہید ہوئے ہیں اور جن کے گھر برباد کئے گئے ، یہ دراصل اسرائیل کی انتقامی کارروائی Allieds نے اپنے ذمے قبول کی تھی اور اسی پر عملدرآمد ہوا ہے۔دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے علاوہ ہم تمہیں نوبلین ڈالر بطور اقتصادی مدد کے دیں گے آپ اندازہ کریں نوبلین ڈالر کی رقم تو ایک دولت کا پہاڑ ہے اور کس چیز کے بدلے اس چیز کے بدلے کہ وہ