خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 107
خطبات طاہر جلد ۱۰ 107 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء ظالم اور بد بخت زمین اس وقت بھی تھی جب کہ نائسی Natsi شکست کھا چکے تھے اور جرمنی کا ملبہ بن چکا تھا جب ان پر انگریز اور امریکن اور فرانسیسی تسلط جما چکے تھے تو پھر اس کے بعد یہود کو وہاں رہنے کا کیا حق ہے۔بہر حال اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے جرنلسٹ بھی ان کے ساتھ تھے اور جو ساری مغربی رائے عامہ تھی وہ یہود کا تحفظ کر رہی تھی تو Terrorism ٹیررازم کی ایجاد دراصل یہود سے ہوئی ہے۔تو اس تاریخی پس منظر میں گویا کہ ایک حق یہود کا یہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ یہود کو اجازت ہے کہ وہ Terrorist کارروائیاں کریں اور اس کا نام ہم یہودی ٹیررازم نہیں رکھیں گے لیکن مسلمان حکومتوں کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کسی قسم کی Terrorist کارروائی کی اجازت نہیں۔اگر کریں گے تو ہم صرف ان کو ہی نہیں بلکہ اسلام کو بدنام کریں گے اور کہیں گے اسلامک ٹیررازم (Islamic Terrorism) ہے۔اور جو حقوق ان کے تسلیم کئے ہوئے نظر آتے ہیں وہ میں آپ کو پوائنٹس کے طور پر بتاتا ہوں۔سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو رد کرنے کا حق ہے یہود کو اور یونائیٹڈ نیشنز کے تمام فیصلوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے اور اس طرح رد کرنے کا حق ہے جس طرح ایک پرزے کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔اور کسی ملک کا حق نہیں ہے کہ یہود کی مذمت کرے اس بارے میں۔یہود کو حق حاصل ہے کہ اپنی بقاء کے نام پر دوسرے ملکوں کے جغرافیے تبدیل کرے اور یہود کو حق ہے کہ وہ ایٹم بم بنائے اور ایٹم بموں کا ذخیرہ جمع کرے اور Mass Destruction کے ہتھیار مثلاً کیمیکل وار فیئر کے اور بیالوجیکل وار فیئر کے کیمیاوی ہلاکتوں کے اور جراثیم کی ہلاکتوں کے ہتھیار تیار کرے اور کسی کو حق نہیں کہ اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنائے لیکن کسی مسلمان ملک کو یہ حق حاصل نہیں۔یہ خلاصہ ہے اس تاریخی جد و جہد کا جس کا ذکر میں نے آپ کے سامنے کیا ہے۔یہ بات قطعی ہے کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہے آج تک نہ آئندہ کی جائے گی۔یہود کے یہ حقوق قائم رکھے جائیں گے اور مسلمانوں کی ان معاملات میں حق تلفی ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔اس کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ صدر بش کا نیو ورلڈ آرڈر New World Order کا خواب کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب تک اس خواب کو نہ سمجھیں