خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد ۱۰ 7 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء میں کام کرنا ہے، شہری علاقوں میں نہیں اور وہاں تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے تو اس کے پیچھے کوئی خاص الہی تقدیر کام کر رہی تھی۔چنانچہ جب میں نے کام کا آغاز کیا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ منظم جائزہ لیا کہ ہمارے دیہات میں کتنے فیصد نو جوان اسلام کی اس ابتدائی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہیں جس کے بغیر انسان مسلمان نہیں بن سکتا اور مسلمان کی تصویر ابھرتی نہیں ہے۔معمولی ساخا کہ دکھائی دیدے گا ، ایک ہیولا سا کہ ہاں شاید یہ مسلمان ہیں مگر نقوش بھرنے چاہئیں۔بغیر نقوش کے تو کوئی چیزا اپنی مکمل صورت میں ظاہر نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ جب ہم نے جائزے لئے تو یہ تعجب ہوا کہ بہت سے ایسے نوجوان دیہات میں ہیں جن کو مسیح لا اله الا الله محمد رسول الله بھی نہیں پڑنا آتا اور جب اس پر تعجب ہوا تو پتہ لگا کہ باقی غیر احمدی مسلمانوں میں تو اس سے بہت بڑی تعداد ایسی ہے۔کلمہ کا لفظ جانتے ہیں لیکن تلفظ کے ساتھ اور معانی کو سمجھتے ہوئے کلمہ کس طرح ادا کیا جاتا ہے اس سے ناواقف اور جب مزید جائزہ لیا گیا نمازوں سے متعلق تو پتا چلا کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے، معمولی نہیں جس کو ساری نماز با ترجمہ نہیں آتی یعنی نماز تو اکثر احمدی نو جوانوں کو کچھ نہ کچھ آتی تھی مگر تلفظ کی خامیاں آپ نظر انداز بھی کر دیں تو ترجمہ سے ناواقف اور اگر نماز کا ترجمہ ہی نہ آتا ہوتو پھر نماز سے استفادے کا کیا سوال رہتا ہے یعنی حکم کی اطاعت تو ہو جاتی ہے مگر روز مرہ جونماز آپ کے اندر زندگی کی نئی لہریں دوڑاتی ہے، نیا روحانی خون عطا کرتی ہے نشو ونما کرتی ہے اُس سے انسان محروم رہتا ہے۔اب ماں کے پیٹ میں جنین تو ہوتا ہی ہے لیکن بعض دفعہ مردہ جنین ہوتا ہے۔اس کا بھی تعلق رہتا ہے اُس خون کی نالی کے ذریعہ جو پلیسینتا ( Placenta) سے بچے تک منتقل ہوتی ہے لیکن وہ نالی بند ہو جاتی ہے یا کسی اور نقص کی وجہ سے وہ خون پہنچنا بند ہو جاتا ہے تو ماں کے پیٹ میں جنین تو ہے لیکن مردہ جنین ہے۔اس طرح وہ لوگ جو نماز پڑھتے تو ہیں لیکن نماز کے مطالب نہیں سمجھتے اس کے آداب نہیں جانتے ، اس کا فلسفہ نہیں سمجھتے، روز مرہ اس کے ذریعے خدا سے تعلق نہیں پیدا کرتے اُن کی نماز ایسی ہی ہے جیسے ایک جنین ہے جو پڑا ہوا ہے جب تک پیٹ میں ہے اُس وقت تک اُس کی حالت مخفی ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ زندہ ہے یا نہیں ہے لیکن موت کے بعد جب اس نے بچے کی طرح باہر آنا ہے اس وقت پتا چلے گا کہ اس نئی پیدائش میں اس میں جان پڑی تھی کہ نہیں پڑی تھی۔