خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 100

خطبات طاہر جلد ۱۰ 100 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء بائیکاٹ کرا دیا چونکہ بجٹ کی کل آمد کا نصف آئل کمپنی سے ملا کرتا تھا۔جب تیل کی فروخت بند ہوگئی تو بڑا شدید مالی بحران ایران میں پیدا ہوا۔ڈاکٹر مصدق نے 52ء کے وسط میں امریکہ کے صدر سے درخواست کی کہ عارضی طور پر ہمیں مالی مدد دی جائے تاکہ ہم اس بحران پر قابو پالیں بعد میں معاملہ طے ہو جائے گا تو ہم آپ کو پیسے واپس کردیں گے تو امریکی صدر نے اس کا جواب دیا کہ یہ بات امریکن ٹیکس فیئر Tax Fare کے مفادات کے مخالف ہے کہ ایران جب خود پیسے حاصل کر سکتا ہے تو ہم اپنے ٹیکس کے پیسے ان کی طرف منتقل کریں۔آپ کے پاس سیدھی سادی راہ ہے برٹش ایرینین کمپنی کی بات مان جائیں اور ان سے پیسے لے لیں وہ تو پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔اس پر ڈاکٹر مصدق سمجھ گئے کہ ان کی نیتیں ٹھیک نہیں ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے جب امریکی صدر نے ڈاکٹر مصدق کو یہ جواب دیا ہے تو اس سے چار دن پہلے CIA اور ISI کی سکیم مکمل ہو کر امریکن حکومت کی توثیق حاصل کر چکی تھی اور پریذیڈنٹ نے اس پر دستخط کر دیے تھے کہ ایران کے خلاف یہ کارروائی کی جائے۔وہ کارروائی تو بہت لمبی چوڑی ہے لیکن خلاصہ اس کا یہ ہے کہ امرینین پولیس اور ایرینین فوج پر انہوں نے قبضہ کیا جو ان کا طریق ہے فوجی انقلاب برپا کرنے کا اور مختلف اداروں کے سر براہوں کو خرید لینا یا جس طرح بھی ہو اپنے ساتھ ملا لینا چنانچہ اس کام کو Kim Rose Velt نے ادا کیا اور اسی کے بعد Kim Rose Velt کوامریکہ میں اتنا بڑا میڈل عطا کیا گیا ہے جو شاذ ہی کسی ہیروکو اس طرح عطا کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کے بادشاہ اور ایران کے وزیر اعظم کے درمیان آپس میں پہلے چپقلش ہوئی اور اختیارات کی کھینچا تانی ہوئی۔ایران کے وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق خود افواج کے سربراہ بن گئے۔ایران کے وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کیا کہ پولیس کا سربراہ بھی میں ہی مقرر کروں گا اور فوج کا کمانڈر انچیف تو خود بن گئے تھے جو چیف آف سٹاف کہنا چاہئے وہ بھی میں ہی مقرر کروں گا اور اس کی نشاندہی بھی انہوں نے کر دی لیکن پولیس کے ہونے والے سربراہ نے فخریہ طور پر یہ ذکر کیا کہ جتنے بھی برٹش ایجنٹس یہاں ایران میں موجود ہیں ان سب کی فہرست یہاں میرے پاس ہے۔دل پر ہاتھ مار کے اس نے کہا اور دوسرے دن وہ قتل کر دیا گیا۔اور جب ڈاکٹر مصدق کو شاہ آف ایران نے آخر ڈسمس کیا ( جب یہ تیاری مکمل ہو چکی تھی تو اس کے بعد ان کو معزول کیا گیا ) تو جو مظاہرے ان کے