خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1010 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1010

خطبات طاہر جلد ۱۰ 1010 خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء جائے گا۔اس میں ایک انقلاب بر پا ہو جائے گا۔کیونکہ وہ شخص جسے کوئی دیکھ رہا ہو اور خصوصا وہ دیکھنے والا ہو جو اُس سے بلند تو قعات رکھتا ہو جس کا اس شخص کے دل میں احترام ہو۔جسے دیکھا جا رہا ہے تو اس وقت اُس کا رد عمل بالکل مختلف ہوتا ہے اس کی ادائیں بدل جاتی ہیں۔بچے ، دیکھا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے جن کی عزت کرتے ہیں کتنے مہذب اور بن ٹھن کر تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔گفتگو کا سلیقہ بھی بالکل مختلف لیکن اُدھر استاد کمرے سے باہر نکلا یا ماں چلی گئی تو اچانک شور شرابا بر پا ہو جاتا ہے۔دیکھنے کا جو مضمون ہے یہ ایک بہت ہی اہم مضمون ہے۔اسے سمجھے بغیر اخلاص میں کچی ترقی ہو نہیں سکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک بہت ہی پاکیزہ اور عظیم الشان کلام میں بار بار جو یہ فرمایا کہ سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی تو اس میں صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا میری نگہد اشت کر رہا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ میں ہر آن اس کے سامنے کھلا پڑا ہوں۔میری زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں ہے۔چھپا ہوا نہیں ہے۔میں کیسے غلطی کر سکتا ہوں مجھے تو توفیق ہی ہے میں تو ہر وقت دھوپ میں بیٹھا رہتا ہوں۔میرا زندگی کا کوئی حصہ چھپا ہوا مخفی ، پُر اسرار نہیں ہے۔ہر وقت میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔پس ان معنوں میں جب خدا دیکھتا ہے تو انسان کے طرز عمل میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اسکے نتیجہ میں۔پھر دوسرے معنے میں بھی دیکھتا ہے یعنی ہر وقت اس کی پیار کی نظر اپنے ایسے بندے پر رہتی ہے ، نگہداشت کی نظر اس پر رہتی ہے اور اس کے دشمن اس پر وار نہیں کر سکتے۔مگر خدا کی حفاظت ان کے واروں کو نا کام اور نا مراد کر دیتی ہے۔یہ نگہداشت کی نظر اس پہلی نظر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔اسکی کوکھ سے پھوٹتی ہے اور لوگ اس مضمون کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں کتنی سعادتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس اس کا تجربہ ہر جماعت کا چندہ دینے والا اپنے روز مرہ کے چندوں میں کر کے دیکھے تو وہ محسوس کرے گا کہ مالی قربانی سے اسے نئی عظمتیں اور نئی رفعتیں نصیب ہو رہی ہیں۔اور خدا سے اس کا تعلق دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔پس ایسی مالی قربانی نہ کریں جس کے نتیجہ میں خدا سے تعلق کم ہو۔ایسی مالی قربانی کریں جس کے نتیجہ میں آپ خدا کے پیارے بنتے چلے جائیں۔اور وہ آپ کا نگہدار ہو جائے آپکی ہر ضرورت کا کفیل ہو جائے۔وہ اپنے ذمہ یہ لے لے کہ اس بندے کی ہر ضرورت میں پوری کروں گا۔کیونکہ اس