خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1009 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1009

خطبات طاہر جلد ۱۰ 1009 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء اور دنیا کو معلوم ہی نہیں ہو سکتا۔ایک ماں جو اپنے بیٹے سے محبت رکھتی ہے اور اعلیٰ تو قع رکھتی ہے جب وہ غفلت کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ اسے سزا دے۔لیکن اسکی آنکھ میں ہلکی سی جو مایوسی ظاہر ہوتی ہے وہی اس پیارے بچے کے لئے سزا بن جاتی ہے۔اگر نسبتا کم لطیف مزاج کا بچہ ہو تو اس کے لئے اظہار ناراضگی یا اظہار مایوسی ذرا اور رنگ میں ظاہر ہوگا۔نسبتاً زیادہ کھل کر ظاہر ہوگا۔مگر وہ بھی عام دنیاوی معنوں میں عقوبت یا سزا نہیں کہلاتی وہ محض ایک یاد دہانی ہے۔پس میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ مومنوں کو جن سے توقعات رکھتا ہے جن کو آگے بڑھانا چاہتا ہے ان کی بعض ایسی غفلتوں پر ضرور پکڑتا ہے اور جلدی پکڑتا ہے۔اور اس پکڑ کا نتیجہ انکی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے اور خدا کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ تجربے کے بعد جان لیتے ہیں ، خوب اچھی طرح پہچان لیتے ہیں کہ خدا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔جہاں ہم نے غلطی کی ہم اپنی غلطی میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ہم اپنے غلط مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔پس وہ خوش نصیب ہیں جو غفلت کے نتیجہ میں ان معنوں میں پکڑے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اپنے حال پر تو راضی ہو جائیں جن کی تجوریاں بھرتی رہیں، جن کے رزقوں میں ترقی ہوتی چلی جائے وہ یہ مجھے لگیں کہ خدا ہم سے تو راضی ہے اگر ہم اس کے حضور پیش کرنے میں کمی بھی دکھاتے ہیں تو اس نے کبھی بھی ناراضگی کا ظاہری اظہار نہیں کیا۔یہ بہت بڑی بیوقوفی ہے۔خدا مستغنی ہے۔وہ عطاء کرنے والا ہے ایسے موقع پر اس کی ناراضگی کا ظاہری اظہار کوئی نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ کوئی شخص اتنا دور چلا جائے کہ وہ دین کا دشمن ہو پھر بعض دفعہ اسکو دنیا میں عبرت کا نشان بنایا جاتا ہے لیکن یہ تو بہت ہی بعید کی بات ہے۔میں کسی احمدی کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ نعوذ باللہ اس حال کو پہنچ جائے پس وہ لوگ جن کو خدا نے زیادہ دیا ہے خواہ وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں ،خواہ ان تک مال کے انسپکٹر ان کی آواز پہنچتی ہو یا نہیں یا مرکز کے ناظر ان کے خطوط پہنچتے ہوں یا نہیں۔انکو یا درکھنا چاہیے کہ خدا جانتا ہے اور خواہ آپ ظاہری قربانی کریں ، اعلامیہ قربانی کریں یا مخفی قربانی کریں خدا کے علم میں ہے کہ کون میرا بندہ مجھ سے محبت رکھتا ہے۔میرے پیار کے نتیجہ میں وہ میرے حضور کچھ پیش کرتا رہتا ہے۔اس علم کو آپ اپنے کانشنس ، دماغ میں اگر محسوس کریں یعنی باشعور طور پر ہر قربانی کرنے والا قربانی کرتے وقت یہ جانتا ہو کہ میرے مولیٰ کی مجھ پر نظر ہے تو اس کی قربانی کا معیار یکدفعہ بدل