خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1008 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1008

خطبات طاہر جلد ۱۰ 1008 خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء نسبت سے اللہ نے ان پر فضل فرمایا ہے، خدا کے حضور مالی قربانی میں لبیک کہتے ہیں کہ نہیں۔یہ خیال کہ جماعت کے عہدیداران کو کیا پتہ کہ ہمارے پاس کیا ہے، ہمیں کتنا ملتا ہے، یہ ایک بے تعلق اور بے معنی خیال ہے۔جماعت کے عہدیداران کو خوش کرنے کیلئے تو آپ نے دینا ہی نہیں ہے۔جس کے حضور پیش کرتے ہیں اسے سب کچھ پتہ ہے کیونکہ دینے والا ہاتھ وہ ہے۔عطا کرنے والے کو کیسے آپ دھوکہ دے سکتے ہیں۔جس نے خود آپ کو کچھ دیا ہو آپ کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ اسے آپ کے حالات کا علم نہیں ہے۔پس ان عذر کے قصوں کو بھلا دیجئے چھوڑ دیں ان باتوں کو کہ آپ کے او پر کتنی ذمہ داری ہے اور مالی لحاظ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ اچھے ہیں لیکن عملاً یہ حال نہیں ہے۔اس قسم کی باتیں عموماً کم چندہ دینے والے کیا کرتے ہیں۔ان کو بھلا دیجئے اور یہ بات دیکھئے کہ جس خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اگر اس کی محبت اور پیار کے اظہار کیلئے آپ اس کے حضور کچھ پیش کرتے ہیں تو وہ اسے رکھ نہیں لے گا وہ اسے واپس لوٹائے گا اور دہ چند کر کے واپس لوٹائے گا۔اور دس گنا زیادہ کر کے واپس لوٹا نا اس نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے۔وہ کیسے یہ کام کرتا ہے ہم ان اسرار کو نہیں جانتے مگر روزمرہ کی زندگی میں ان کاموں کو ہوتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اخلاص کے اعلیٰ معیار پر قائم ہیں ان کیلئے اللہ تعالیٰ نے کوئی حد قائم نہیں فرمائی۔فرمایا: پھر جسے وہ چاہے اسے جتنا چاہے بڑھا کر دیتا چلا جائے اسکی کوئی حد نہیں ہے۔تو پہلے تو یہ دیکھیں کہ خدا کے معاملے میں کنجوسی کرنا کوئی عقل کا سودا ہے؟ کوئی نفع کا سودا ہے یا گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ تعالیٰ بہت ہی حلیم ہے اور ضروری نہیں کہ ہر کنجوسی کرنے والے کو اسکی کنجوسی کی فور سزا دے۔وہ مستغنی بھی ہے۔وہ بعض دفعہ پر واہ بھی نہیں کرتا اور خصوصاً ان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا جن سے توقعات نہ ہوں۔پس خدا کی طرف سے اس معاملہ میں پکڑ کا نہ آنا ایک خطرناک علامت ہے۔میرا ساری زندگی کا تجربہ ہے کہ نیک لوگوں پر غفلت کے نتیجہ میں احساس دلانے والی پکڑ ضرور جلد ہی آیا کرتی ہے۔خدا کی پکڑ کی صرف ایک ہی قسم نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی عقوبت کی بھی اور پکڑ کی بھی بہت سی قسمیں ہیں۔بعض دفعہ پکڑ ایسی ہوتی ہے جو صرف احساس دلانے کیلئے ہوتی ہے کہ ہیں ہیں ! تم سے یہ توقع نہیں تھی۔یہ کام نہیں کرنا ورنہ میں غالب ہوں۔مجھ سے بھاگ کر تم الگ نہیں جاسکتے۔یہ ایک ایسی پکڑ ہے جسے مومن اور مخلص مومن ہی جانتا ہے۔غیروں کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے۔اس کا نام ابتلاء نہیں ہے اس کا نام سوائے محبت کی دنیا کے کسی