خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1007
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1007 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء پس ذاتی طور تو ہندوستان کو جہاں بیرونی دنیا سے کوئی بھی زیرا احسان نہیں کرتا جب وہ خلیفہ وقت کی تحریک پر وقف جدید کی مد میں قربانی کرتا ہے۔لیکن ہندوستان میں یہ احساس پیدا ہونا ضروری ہے کہ ہم وہ ملک ہیں جہاں احمدیت کا سوتا پھوٹا ہے۔جہاں آسمان سے احمدیت کا نور نازل ہوا ہے۔ایک لمبے عرصہ تک ہمیں یہ سعادت ملی کہ ہمارا فیض ساری دنیا کو پہنچتارہا۔مشرق کو بھی پہنچا، مغرب کو بھی پہنچا، کالوں کو بھی پہنچا، گوروں کو بھی پہنچا۔ایک ہندوستان ہی تھا جو افریقہ کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا، امریکہ کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا، یورپ کے ممالک کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا اور مشرق بعید کے ممالک کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا۔کبھی کسی ہندوستانی احمدی کے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ دوسروں پر احسان کرتا ہے۔اسکے لئے یہ سعادت تھی اور اس سعادت کے نتیجہ میں تکبر کے نتیجہ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احسان کو یا در کھتے ہوئے اس کا سراونچا ہوتا تھا۔سرکا اُونچا ہونا بھی مختلف وجوہ سے ہو سکتا ہے یاد رکھیں کہ سر کا اونچا ہونا لازماً تکبر کی علامت نہیں ہے۔بعض دفعہ نیک مقاصد کیلئے بھی سر بلند کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احسان کے تابع جہاں سر جھکتے ہیں وہاں سر بلند بھی ہوا کرتے ہیں۔پس ان معنوں میں ہندوستان کی جماعتوں کا سر بہت بلند تھا لیکن رفتہ رفتہ تقسیم کے بعد جو کمزوریاں پیدا ہونی شروع ہوئیں ان میں ایک مصیبت یہ آپڑی کہ دوسروں پر انحصار کا رجحان پیدا ہو گیا اور ہندوستان یہ بھول گیا کہ وہ تو ایک فیض رساں ملک تھا اور فیض رساں ملک کے طور پر بنایا گیا تھا۔اس مقصد کیلئے خدا نے اسے چنا تھا کہ اس کا فیض ساری دنیا میں پھیلے۔پس اس نقطۂ نگاہ سے ہندوستان کی جماعتوں کو اپنے حالات کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ فلاں جماعت کے لوگ مالی قربانی میں پیچھے ہیں اور فلاں کے آگے ہیں لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی ضروریات کے لئے استطاعت ضرور بخشی ہے۔آپ میں جتنے مخلصین کام کیلئے آگے آسکتے ہیں ان کا آپ کی تعداد سے ایک تناسب ہے اور ہر قوم میں یہ تناسب موجود ہوتا ہے پس جتنے مخلصین آپ پیدا کر سکتے ہیں ان مخلصین کی ضروریات کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ضرور توفیق بخشی ہے۔پس اگر وہ ضروریات پوری نہ ہوں اور باہر سے مدد کی ضرورت پیش آئے تو یہ تکلیف دہ صورت اُبھرتی ہے کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنے فرائض کو پورا ادا نہیں کر رہیں۔پس میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے حالات کا جائزہ لیں۔آپ میں سے وہ خوش نصیب جن کو خدا تعالیٰ نے کثرت سے دولت عطاء فرمائی ہے اور ایسے ضرور ہیں۔وہ یہ جائزہ لیں کہ کیا وہ اس نسبت سے جس